کراچی: کراچی کے علاقے سی ویو روڈ پر مہلک ہٹ اینڈ رن حادثے میں ملوث ٹویوٹا ریوو گاڑی پولیس نے تحویل میں لے لی ہے، تاہم گاڑی کا ڈرائیور تاحال فرار ہے۔
یہ حادثہ 14 مئی کی رات تقریباً 12 بج کر 5 منٹ پر ڈی ایچ اے فیز 6 میں مین سی ویو روڈ اور خیابانِ بخاری کے چوراہے پر پیش آیا۔ ایف آئی آر کے مطابق تیز رفتار ریوو گاڑی ایک کار سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں کار میں سوار تین افراد شدید زخمی ہوئے۔
ایف آئی آر کے مطابق زخمیوں کی شناخت 33 سالہ سلیمان سلیم، 17 سالہ عامر اویس اور 19 سالہ حمزہ والیکا کے نام سے ہوئی۔ تینوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم سلیمان سلیم دورانِ علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
ساؤتھ ڈی آئی جی سید اسد رضا نے بتایا کہ درخشاں پولیس نے مفرور ڈرائیور کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے اور قانونی کارروائی جاری ہے۔ ان کے مطابق حادثے میں ملوث ریوو گاڑی پولیس نے تحویل میں لے لی ہے، مگر ڈرائیور جائے حادثہ سے فرار ہو گیا تھا اور اب تک گرفتار نہیں ہو سکا۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تیز رفتار ڈبل کیبن گاڑی نے سی ویو/بخاری کمرشل کے قریب کار کو پیچھے سے ٹکر ماری، جس سے کار کئی فٹ دور جا گری۔ فوٹیج میں حادثے سے پہلے اور بعد میں گاڑی کو علاقے کی مختلف سڑکوں پر جاتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
مقتول کی شناخت کے حوالے سے دستیاب رپورٹس میں معمولی فرق موجود ہے۔ ایک رپورٹ میں مقتول کا نام سلیمان سلیم، عمر 33 سال بتایا گیا، جبکہ دوسری میں مقتول کی شناخت 36 سالہ سلمان ولد سلیم، رہائشی اورنگی ٹاؤن، کے طور پر کی گئی۔ دستیاب معلومات کے مطابق پولیس کی جانب سے اس فرق کی وضاحت سامنے نہیں آئی۔
یہ حادثہ کراچی کے پوش علاقوں، خاص طور پر ڈیفنس اور سی ویو، میں تیز رفتاری اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کے سوالات کو دوبارہ سامنے لے آیا ہے۔ گاڑی مل چکی ہے، مگر متاثرہ خاندان کے لیے اصل سوال اب بھی وہی ہے: ڈرائیور کہاں ہے؟
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ جب تک ڈرائیور گرفتار نہیں ہوتا، یہ کیس کراچی میں سڑکوں پر بڑھتی ہوئی بے احتیاطی اور احتساب میں تاخیر کی ایک اور تکلیف دہ مثال بنا رہے گا۔
