امریکا میں فوجی اڈوں سے پھیلنے والی کیمیائی آلودگی کے معاملے پر حکومت اور محکمہ دفاع پر دباؤ بڑھ رہا ہے، کیونکہ کئی ریاستوں میں فوجی تنصیبات کے قریب رہنے والی آبادیوں نے پینے کے پانی، زیرِ زمین پانی، مٹی، کھیتوں اور مقامی ماحول میں آلودگی کی شکایات سامنے لائی ہیں۔
اس معاملے کا مرکزی سبب پی ایف اے ایس نامی کیمیکلز کو قرار دیا جا رہا ہے، جنہیں عام طور پر فاریور کیمیکلز کہا جاتا ہے کیونکہ یہ ماحول میں طویل عرصے تک باقی رہتے ہیں۔ یہ کیمیکلز کئی برسوں تک فوجی اڈوں پر آگ بجھانے والے فوم میں استعمال ہوتے رہے، خاص طور پر تربیتی مشقوں اور ہنگامی صورتحال کے دوران۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ فوم زمین میں جذب ہو کر پانی کے ذخائر اور قریبی علاقوں تک پھیل گیا۔
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق سیکڑوں فعال فوجی اڈوں، سابق دفاعی مقامات، نیشنل گارڈ تنصیبات اور دیگر دفاعی مقامات کی پی ایف اے ایس آلودگی کے حوالے سے جانچ یا صفائی کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ یہ معاملہ اس لیے بھی سنگین سمجھا جا رہا ہے کیونکہ متاثرہ علاقوں میں رہنے والے افراد طویل عرصے تک آلودہ پانی استعمال کرتے رہے۔
طبی ماہرین کے مطابق پی ایف اے ایس کیمیکلز سے ممکنہ طور پر کینسر کی بعض اقسام، مدافعتی نظام کی خرابی، بچوں کی نشوونما پر اثرات، ہارمونز میں تبدیلی اور دیگر طویل مدتی صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے متاثرہ کمیونٹیز صحت کی نگرانی، صاف پانی کی فراہمی اور فوری صفائی کے اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
امریکا کی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی نے 2024 میں پینے کے پانی میں بعض پی ایف اے ایس کیمیکلز کی حد مقرر کی تھی، جس کے بعد فوجی اڈوں اور صنعتی مقامات سے جڑی آلودگی پر بحث مزید تیز ہو گئی۔ ماحولیاتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت کو متاثرہ علاقوں میں صفائی کا عمل تیز کرنا چاہیے اور ذمہ دار اداروں کو جوابدہ بنایا جانا چاہیے۔
کئی ریاستوں میں مقامی آبادیوں نے شکایت کی ہے کہ آلودگی نے نہ صرف گھروں کے پانی کو متاثر کیا بلکہ کھیتوں، مویشیوں اور مقامی کاروبار کو بھی نقصان پہنچایا۔ نیو میکسیکو، مشی گن اور دیگر علاقوں میں فوجی اڈوں کے قریب آلودگی کے واقعات نے عوامی غم و غصے کو بڑھا دیا ہے۔
متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ انہیں برسوں تک یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ ان کے پانی میں خطرناک کیمیکلز شامل ہو سکتے ہیں۔ کئی خاندانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں صاف پینے کا پانی، طبی سہولیات، مالی معاوضہ اور آلودہ زمین و پانی کی مکمل صفائی فراہم کی جائے۔
ماہرین کے مطابق پی ایف اے ایس کی صفائی ایک مشکل، مہنگا اور طویل عمل ہے کیونکہ یہ کیمیکلز آسانی سے ختم نہیں ہوتے اور زیرِ زمین پانی کے ذریعے فوجی اڈوں کی حدود سے بہت دور تک پھیل سکتے ہیں۔ اسی لیے اس مسئلے کو حل کرنے میں کئی سال بلکہ بعض صورتوں میں دہائیاں لگ سکتی ہیں۔
یہ معاملہ اب سیاسی بحث کا حصہ بھی بن چکا ہے۔ صحت عامہ کے حامی سخت قوانین کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ بعض حکومتی اور صنعتی حلقے صفائی کے اخراجات اور نئے معیار پر عمل درآمد کو ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔
متاثرہ آبادیوں کے لیے یہ معاملہ صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ صحت، اعتماد اور انصاف کا سوال بن چکا ہے۔ وہ وفاقی حکومت اور فوجی اداروں سے جواب طلب کر رہے ہیں کہ دہائیوں تک استعمال ہونے والے کیمیکلز کے اثرات سے متاثرہ لوگوں کی مدد کب اور کیسے کی جائے گی۔
امریکا میں فوجی اڈوں سے کیمیائی آلودگی پر بڑھتی ہوئی بحث اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دفاعی تنصیبات پر ماضی میں استعمال ہونے والے خطرناک کیمیکلز کے اثرات اب عوامی صحت، ماحولیات اور حکومتی احتساب کا بڑا مسئلہ بن چکے ہیں۔
