پاکستانی کوہ پیما سلمان عتیق نے 21 مئی 2026 کو ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے ایک اہم قومی اعزاز اپنے نام کر لیا۔ مقامی رپورٹ کے مطابق وہ صبح 11:39 بجے مقامی وقت دنیا کی بلند ترین چوٹی پر پہنچے اور وہاں پاکستان کا قومی پرچم لہرایا۔
اس کامیابی کو محض ایک ذاتی سنگِ میل نہیں سمجھا جا رہا۔ دستیاب رپورٹنگ کے مطابق سلمان عتیق ایورسٹ سر کرنے والے 13ویں پاکستانی بن گئے ہیں، جس سے ان کی یہ مہم پاکستانی کوہ پیمائی کی تاریخ میں خاص اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
ایورسٹ کی چوٹی تک پہنچنا ہمیشہ ہی غیر معمولی کامیابی تصور کیا جاتا ہے، لیکن پاکستانی تناظر میں اس کی اہمیت کچھ اور بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان خود دنیا کے بلند ترین اور مشکل پہاڑی سلسلوں کا گھر ہے، اس کے باوجود ایورسٹ ایک ایسی عالمی علامت ہے جس پر کامیابی فوری طور پر قومی توجہ حاصل کر لیتی ہے۔ سلمان عتیق کی یہ پیش رفت اسی بڑی کہانی کا حصہ محسوس ہوتی ہے، جہاں پاکستانی کوہ پیما عالمی سطح پر اپنی موجودگی مزید مضبوط کر رہے ہیں۔ یہ اہمیت دستیاب رپورٹنگ اور “13ویں پاکستانی” کے تناظر سے اخذ کی گئی ہے۔
یہ کامیابی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ برسوں میں دوسرے پاکستانی کوہ پیماؤں نے بھی نمایاں کارنامے انجام دیے ہیں۔ سعد منور نے 2025 میں ایورسٹ سر کیا تھا، جبکہ سرباز خان نے 2024 میں آکسیجن کے بغیر تمام 14 آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیاں مکمل کرنے کا تاریخی اعزاز حاصل کیا۔ ایسے پس منظر میں سلمان عتیق کی کامیابی پاکستان کی کوہ پیمائی روایت میں ایک اور مضبوط اضافہ بن گئی ہے۔
پاکستانی عوام کے لیے اس خبر کی کشش صرف کھیل تک محدود نہیں۔ دنیا کی بلند ترین چوٹی پر قومی پرچم لہرانا ایک علامتی منظر بھی ہے — ہمت، تیاری، برداشت اور قومی شناخت کا۔ سلمان عتیق کی یہ فتح اسی لیے ایک عام مہم جوئی نہیں، بلکہ ایک ایسا لمحہ ہے جس نے کئی لوگوں کو واقعی فخر کا احساس دیا۔
سادہ لفظوں میں، سلمان عتیق نے صرف ایورسٹ نہیں سر کیا؛ انہوں نے پاکستانی کوہ پیمائی کے سفر میں ایک اور روشن باب بھی شامل کر دیا۔
