کراچی: کراچی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ 31 سالہ انمول عرف پنکی نے مبینہ طور پر کوکین کی سپلائی کا ایسا نیٹ ورک بنا رکھا تھا جو مستقل ملازمین کے بجائے عارضی رائیڈرز، بدلتے رابطوں اور آن لائن آرڈرز کے ذریعے چلایا جاتا تھا۔
ڈی آئی جی ساؤتھ سید اسد رضا کے مطابق انمول “چالاک اور اسٹریٹ اسمارٹ” تھی کیونکہ وہ اپنے مبینہ منشیات کے کاروبار میں کسی کو مستقل بنیاد پر ملازم نہیں رکھتی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہی طریقہ اسے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچانے میں مدد دیتا رہا۔
انمول کو رواں ماہ گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے خلاف منشیات کے متعدد مقدمات کے ساتھ ایک قتل کا مقدمہ بھی درج ہے۔ جمعہ، 22 مئی 2026 کو عدالت نے اسے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، جبکہ تفتیشی افسران کو چالان جمع کرانے کی ہدایت بھی کی گئی۔
پولیس کے مطابق انمول کا مبینہ نیٹ ورک ملک کے مختلف شہروں میں 35 رائیڈرز کے ذریعے چل رہا تھا۔ ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا کہ ان میں سے تقریباً 9 یا 10 رائیڈرز کو کراچی کے کلفٹن اور ڈیفنس کے علاقوں سے گرفتار کیا جا چکا ہے۔
تفتیش کاروں کا دعویٰ ہے کہ یہ کاروبار بڑی حد تک واٹس ایپ کے ذریعے چلتا تھا۔ گاہک مبینہ طور پر آن لائن رابطہ کرتے، انہیں بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات دی جاتیں، ادائیگی کے بعد اسکرین شاٹ منگوایا جاتا اور پھر رائیڈر کے ذریعے کوکین پہنچائی جاتی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ انمول نے اپنے سابق شوہر رانا ناصر سے علیحدگی کے بعد لاہور میں اپنا نیٹ ورک شروع کیا۔ رانا ناصر کو بھی پولیس مبینہ منشیات فروش قرار دیتی ہے۔ حکام کے مطابق انمول بعد میں کراچی واپس آئی اور اس کے پاس ایک ایسی سم تھی جس میں مبینہ ڈیلرز، خریداروں اور رائیڈرز کے رابطے موجود تھے۔
ڈی آئی جی سید اسد رضا کے مطابق انمول نے مبینہ طور پر کوکین کی مقدار بڑھانے کے لیے اس میں کیمیکل ملانے کا طریقہ بھی سیکھا تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ 200 گرام کوکین کو اس عمل کے ذریعے تقریباً 500 گرام تک بڑھایا جاتا تھا۔ حکام کے مطابق اس کی “برانڈڈ” کوکین 40 ہزار روپے فی گرام تک فروخت ہوتی تھی، جبکہ کم معیار کی کوکین 20 سے 30 ہزار روپے فی گرام میں دستیاب تھی۔
یہ کیس اب کراچی تک محدود نہیں رہا۔ پولیس نے سندھ حکومت سے اجازت طلب کی ہے کہ ایک ٹیم پنجاب بھیجی جائے تاکہ 15 شریک ملزمان کو گرفتار کیا جا سکے۔ ان میں انمول کے سابق شوہر، بھائی اور مبینہ منشیات سپلائی کرنے والے شامل بتائے گئے ہیں۔
پولیس نے دو خواتین، بیسل ایمیکا عرف اینا اور حمیرا چنون سو سولومن، کو بھی اس کیس میں اہم کردار قرار دیا ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ خواتین انمول اور ایک بین الاقوامی منشیات کارٹل کے درمیان رابطے کا ذریعہ تھیں۔
تفتیش اب مالی اور ڈیجیٹل پہلوؤں تک بھی پھیل گئی ہے۔ پولیس کے مطابق پنجاب پولیس، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، ایف آئی اے، اینٹی نارکوٹکس فورس اور نادرا سے رابطہ کیا گیا ہے۔ منی لانڈرنگ سے متعلق کارروائی بھی کراچی کے کمرشل بینکنگ سرکل میں شروع کی جا چکی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ انمول سے منسلک دو جائیدادیں، ایک گوادر اور ایک کراچی میں، ضبط کی گئی ہیں جبکہ دو بینک اکاؤنٹس منجمد کیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق اس کے فون ریکارڈ سے 868 رابطے ملے، جن میں 311 کراچی، 49 لاہور، 66 دیگر شہروں اور 16 بین الاقوامی نمبرز سے متعلق تھے، جبکہ 383 نمبرز بند پائے گئے۔
تاہم، یہ تمام تفصیلات فی الحال پولیس کے الزامات ہیں۔ انمول عدالت میں ان الزامات کو جھوٹا قرار دے چکی ہے۔ اس کے وکلا امکان ہے کہ آئندہ سماعتوں میں پولیس کے مؤقف کو چیلنج کریں گے۔
پولیس اس کیس کو صرف ایک عام منشیات گرفتاری نہیں سمجھ رہی۔ حکام کے مطابق یہ ایک ایسا مبینہ نیٹ ورک تھا جو مستقل ڈھانچے کے بجائے عارضی افراد، موبائل رابطوں اور آن لائن ادائیگیوں پر چلتا تھا — اور شاید یہی اس کا سب سے بڑا ہتھیار تھا۔
