ہانگ ژو، 24 مئی: پاکستان نے ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط بنانے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی دینے کے لیے چین کے معروف ٹیکنالوجی گروپ علی بابا کے ساتھ اسٹریٹجک مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔
معاہدے کے تحت پاکستان کی سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، یعنی سمیڈا، علی بابا گروپ کے ساتھ مل کر پاکستانی ایس ایم ایز کو ای کامرس، ڈیجیٹل تجارت اور عالمی خریداروں تک رسائی میں مدد فراہم کرے گی۔ دستخط کی تقریب چین میں ہوئی، جس میں وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان بھی موجود تھے۔
حکام کے مطابق اس تعاون کا مقصد پاکستانی چھوٹے کاروباروں کو روایتی برآمدی رکاوٹوں سے نکال کر آن لائن عالمی مارکیٹ پلیسز سے جوڑنا ہے۔ اس کے ذریعے پاکستانی مصنوعات کو بین الاقوامی خریداروں تک پہنچانے، کاروباری اداروں کی ڈیجیٹل صلاحیت بڑھانے اور برآمدات کے نئے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
ہارون اختر خان نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ حکومت وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کے مطابق ایس ایم ای سیکٹر کی ڈیجیٹل تبدیلی پر کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی کاروباروں کو عالمی خریداروں سے جوڑنا اب صرف سہولت نہیں بلکہ معاشی ضرورت بن چکا ہے۔
یہ پیش رفت وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ چین کے دوران سامنے آئی ہے، جو 23 سے 26 مئی تک جاری ہے۔ وزیراعظم نے ہانگ ژو میں پاکستان-چین بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس کی صدارت بھی کی، جہاں آئی ٹی، ٹیلی کام، بیٹری انرجی اسٹوریج، زراعت، خصوصی اقتصادی زونز اور صنعتی تعاون کو اہم شعبوں کے طور پر پیش کیا گیا۔
پاکستان کے لیے علی بابا کے ساتھ تعاون محض ایک رسمی معاہدہ نہیں۔ ملک کے ہزاروں چھوٹے کاروبار معیاری مصنوعات بنانے کے باوجود عالمی منڈی تک نہیں پہنچ پاتے۔ کہیں برانڈنگ کمزور ہے، کہیں پیکجنگ کا مسئلہ ہے، کہیں ڈیجیٹل ادائیگیوں اور لاجسٹکس کی رکاوٹیں ہیں۔ علی بابا جیسے عالمی پلیٹ فارم کے ساتھ شراکت داری ان کاروباروں کو خریداروں، مارکیٹ رجحانات اور برآمدی طریقہ کار تک براہِ راست رسائی دے سکتی ہے۔
ایس ایم ایز پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ ہیں، مگر برآمدات میں ان کا حصہ اب بھی محدود ہے۔ حکومت سمجھتی ہے کہ ای کامرس کے ذریعے چھوٹے کاروبار بھی بڑی منڈیوں میں داخل ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ انہیں تربیت، معیار، پیکجنگ، سرٹیفکیشن اور شپمنٹ کے معاملات میں عملی مدد ملے۔
علی بابا اس سے پہلے بھی پاکستانی اداروں کے ساتھ ڈیجیٹل تجارت کے فروغ کے لیے کام کر چکا ہے۔ ستمبر 2025 میں علی بابا ڈاٹ کام نے وزارتِ آئی ٹی کے تحت اگنائٹ نیشنل ٹیکنالوجی فنڈ کے ساتھ بھی ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد ایس ایم ایز، اسٹارٹ اپس اور ڈیجیٹل ٹریڈ کو فروغ دینا تھا۔
تازہ سمیڈا-علی بابا معاہدہ اسی سلسلے کی ایک نئی کڑی ہے، لیکن اس بار توجہ زیادہ واضح طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو عالمی ای کامرس نظام سے جوڑنے پر ہے۔ ماہرین کے نزدیک اصل کامیابی دستخطوں سے نہیں بلکہ اس بات سے ناپی جائے گی کہ کتنے پاکستانی کاروبار واقعی علی بابا کے پلیٹ فارم پر آتے ہیں، کتنی مصنوعات عالمی خریداروں تک پہنچتی ہیں، اور کتنے آرڈرز حقیقی برآمدات میں تبدیل ہوتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ چین کا وسیع تر پیغام بھی یہی ہے کہ پاکستان اب چین کے ساتھ تعاون کو صرف سڑکوں، توانائی اور انفراسٹرکچر تک محدود نہیں رکھنا چاہتا۔ حکومت چاہتی ہے کہ سی پیک کے اگلے مرحلے میں ڈیجیٹل معیشت، صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور برآمدی شراکت داری کو مرکزی حیثیت دی جائے۔
اب چیلنج پاکستان کے اندر ہے۔ اگر ایس ایم ایز کو مناسب تربیت، آسان رجسٹریشن، بہتر لاجسٹکس، محفوظ ادائیگیوں اور برآمدی سہولتیں مل گئیں تو علی بابا کے ساتھ یہ شراکت داری چھوٹے کاروباروں کے لیے واقعی دنیا تک پہنچنے کا دروازہ بن سکتی ہے۔ ورنہ یہ بھی کئی دوسرے معاہدوں کی طرح کاغذی پیش رفت بن کر رہ جائے گی۔
