بیجنگ: پاکستان اور چین نے راک سالٹ کی کان کنی، پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور عالمی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے ایک اسٹریٹجک تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جسے پاکستان کے معدنی شعبے کو عالمی سپلائی چینز سے جوڑنے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ معاہدہ 21 مئی 2026 کو بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے میں پاک سالٹ کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ اور چائنا نیشنل سالٹ انڈسٹری گروپ کے درمیان طے پایا۔ تقریب میں چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی بھی موجود تھے۔
پاک سالٹ کارپوریشن، پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن اور میرکل سالٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کا مشترکہ منصوبہ ہے، جبکہ چائنا نیشنل سالٹ انڈسٹری گروپ چین کی نمایاں سرکاری سالٹ انڈسٹری کمپنیوں میں شمار ہوتا ہے۔ معاہدے کے تحت دونوں ادارے راک سالٹ کے پورے ویلیو چین پر کام کریں گے، جس میں ذخائر کی تلاش، کان کنی، پروسیسنگ، مصنوعات کی تیاری، برانڈنگ اور بین الاقوامی تقسیم شامل ہے۔
حکام کے مطابق اس تعاون کا بنیادی مقصد پاکستان کے راک سالٹ ذخائر کو منظم انداز میں تجارتی بنیادوں پر استعمال کرنا ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے نمک، خاص طور پر گلابی ہمالیائی نمک، خام یا کم ویلیو والی شکل میں برآمد کرتا رہا ہے، حالانکہ یہی نمک عالمی منڈیوں میں پریمیم مصنوعات کے طور پر فروخت ہوتا ہے۔
یہ منصوبہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی معاونت سے آگے بڑھایا گیا ہے۔ کونسل معدنیات، توانائی، زراعت اور دیگر ترجیحی شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ معاہدے سے امید کی جا رہی ہے کہ پاکستان میں نمک کی مقامی پروسیسنگ، بہتر پیکجنگ اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی تیاری کو فروغ ملے گا۔
پاکستانی نمک کی چین کو برآمدات پہلے ہی بڑھ رہی ہیں۔ دستیاب تجارتی اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے مئی 2025 کے دوران پاکستان کی چین کو نمک کی برآمدات 3.44 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 2.50 ملین ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 38 فیصد زیادہ تھیں۔
اسی طرح 2025 کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان نے چین کو 13.64 ملین کلوگرام سے زائد نمک برآمد کیا، جس سے 1.83 ملین ڈالر حاصل ہوئے۔ 2024 کے اسی عرصے میں یہ مالیت 1.30 ملین ڈالر تھی۔ پاکستان چین کو خوردنی نمک، خالص سوڈیم کلورائیڈ اور دیگر سالٹ مصنوعات برآمد کر رہا ہے۔
پاکستان کا گلابی نمک عالمی سطح پر خوراک، ویلنس، آرائشی مصنوعات اور اسپا انڈسٹری میں خاصی مقبولیت رکھتا ہے۔ پنجاب کی سالٹ رینج، خصوصاً کھیوڑہ سالٹ مائن، پاکستان کے اہم ترین معدنی اثاثوں میں شامل ہے۔ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق ہمالیائی پنک سالٹ کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے پاکستان کے لیے برآمدی آمدنی بڑھانے کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
تاہم اصل مسئلہ صرف پیداوار کا نہیں بلکہ ویلیو ایڈیشن کا ہے۔ ماہرین طویل عرصے سے نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ پاکستان اکثر خام نمک کم قیمت پر برآمد کرتا ہے، جسے بیرون ملک پروسیس، پیک اور برانڈ کر کے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے۔ نئے پاک چین معاہدے کا مقصد اسی خلا کو کم کرنا ہے۔
چینی کمپنی کی تکنیکی مہارت، صنعتی تجربہ اور عالمی تقسیم کا نیٹ ورک پاکستان کے سالٹ سیکٹر کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اگر معاہدہ عملی سرمایہ کاری میں بدلتا ہے تو اس سے کان کنی کے معیار، مقامی پروسیسنگ پلانٹس، پیکجنگ سہولتوں اور برآمدی نیٹ ورکس کو تقویت مل سکتی ہے۔
اس کے باوجود کامیابی کا دارومدار عمل درآمد پر ہوگا۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ سرمایہ کاری کتنی آتی ہے، نئے منصوبے کہاں لگتے ہیں، مقامی مزدوروں اور کاروباروں کو کتنا فائدہ پہنچتا ہے، اور پاکستان اپنی نمک مصنوعات کی عالمی برانڈنگ کس حد تک محفوظ بنا پاتا ہے۔
فی الحال، اسلام آباد اور بیجنگ اس معاہدے کو روایتی انفراسٹرکچر تعاون سے آگے بڑھ کر معدنیات اور ویلیو ایڈڈ برآمدات کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ اپنے قدرتی وسائل کو صرف خام مال کے طور پر فروخت کرنے کے بجائے تیار مصنوعات کی صورت میں بہتر قیمت پر عالمی منڈیوں تک پہنچائے۔
