نئی دہلی: بھارت کی وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ملک کو تین اہم معاشی محاذوں — ایندھن، کھاد اور زرمبادلہ — پر خاص توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
نرملا سیتا رمن نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں بھارت کو محتاط رہنا ہوگا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب توانائی کی قیمتیں، کھاد کی دستیابی اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر براہِ راست ملکی معیشت پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم اس معاملے پر خوف و ہراس پھیلانے سے گریز کیا جانا چاہیے۔
وزیرِ خزانہ نے ان تین شعبوں کو “3Fs” کا نام دیا، یعنی Fuel، Fertiliser اور Forex۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی بحران کے اثرات سب سے پہلے انہی شعبوں میں محسوس ہوتے ہیں، اس لیے پالیسی سازوں، کاروباری طبقے اور عوام کو سنجیدگی سے ان پہلوؤں پر غور کرنا ہوگا۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث تیل کی عالمی منڈیوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ بھارت خام تیل کا بڑا درآمد کنندہ ہے، اس لیے تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف پیٹرول اور ڈیزل مہنگا کر سکتا ہے بلکہ ملک کے درآمدی بل کو بھی بڑھا سکتا ہے۔ درآمدی بل میں اضافہ روپے پر دباؤ ڈال سکتا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
کھاد کا معاملہ بھی بھارت کے لیے نہایت حساس ہے، کیونکہ زرعی شعبہ ملک کی بڑی آبادی کے روزگار اور غذائی تحفظ سے جڑا ہوا ہے۔ اگر عالمی منڈی میں کھاد یا اس کے خام مال کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا براہِ راست اثر کسانوں کی لاگت پر پڑتا ہے۔ چاول، گندم اور دیگر اہم فصلوں کی پیداوار کے لیے کھاد کی دستیابی وقت پر ہونا ضروری ہے۔
حکومت کے لیے سب سے مشکل سوال یہ ہے کہ عوام کو مہنگے ایندھن سے کس حد تک بچایا جائے۔ اگر حکومت ٹیکس کم کرتی ہے تو عام شہری کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے، لیکن اس سے سرکاری آمدن متاثر ہوتی ہے۔ دوسری طرف اگر قیمتیں زیادہ رہتی ہیں تو مہنگائی بڑھنے کا خطرہ رہتا ہے۔
زرمبادلہ کے حوالے سے بھی صورتحال نازک ہو سکتی ہے۔ تیل مہنگا ہونے سے ڈالر کی طلب بڑھتی ہے، جس کے نتیجے میں مقامی کرنسی پر دباؤ آ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت غیر ضروری درآمدات، ایندھن کے استعمال اور بیرونی اخراجات پر محتاط رویہ اختیار کرنے کی بات کر رہی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ نرملا سیتا رمن کا بیان دراصل ایک احتیاطی پیغام ہے۔ بھارت ابھی کسی فوری معاشی بحران کا شکار نہیں، لیکن اگر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال طویل ہوتی ہے تو ایندھن، کھاد اور زرمبادلہ تینوں شعبوں میں دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
وزیرِ خزانہ نے واضح کیا کہ بھارت کی معیشت مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہے، تاہم عالمی حالات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق اس وقت دانشمندانہ پالیسی، محتاط خرچ اور ضروری درآمدات کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
حکومت آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں، کھاد کی فراہمی اور زرمبادلہ کے ذخائر پر گہری نظر رکھے گی۔ اگر مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی مزید بڑھی تو بھارت کو اپنی درآمدی حکمتِ عملی، زرعی سپورٹ پالیسی اور مالیاتی اقدامات میں مزید تبدیلیاں کرنا پڑ سکتی ہیں۔
