تہران/واشنگٹن: ایران نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ ممکنہ مفاہمتی یادداشت پر بات چیت میں کئی معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے، تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ کسی حتمی معاہدے کو فوری یا قریب سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ دونوں فریق کئی موضوعات پر “نتائج” تک پہنچ چکے ہیں۔ تاہم انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ معاہدے پر دستخط ہونے والے ہیں۔ ان کے مطابق، “یہ کہنا کہ معاہدہ قریب ہے، ایسی بات کوئی نہیں کہہ سکتا۔”
بقائی نے کہا کہ ایران اس وقت امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے سے متعلق بات چیت کر رہا ہے، جوہری معاملات پر نہیں۔ تہران کے لیے یہ نکتہ اہم ہے، کیونکہ ایران فوری تنازع کو جوہری فائل سے الگ رکھنا چاہتا ہے، جبکہ واشنگٹن وسیع تر معاہدے میں ایران کی جوہری سرگرمیوں، پابندیوں، علاقائی سلامتی اور آبنائے ہرمز جیسے معاملات کو بھی شامل دیکھنا چاہتا ہے۔
تازہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب گزشتہ چند روز سے یہ قیاس آرائیاں بڑھ رہی تھیں کہ دونوں ممالک کسی ممکنہ سمجھوتے کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مذاکرات کاروں کو جلد بازی میں کوئی معاہدہ نہیں کرنا چاہیے۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خبردار کیا ہے کہ اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو واشنگٹن “دوسرا راستہ” اختیار کر سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق زیرِ بحث خاکے میں 60 روزہ مذاکراتی مدت، ایران کے افزودہ یورینیم ذخائر سے متعلق اقدامات، پابندیوں میں نرمی کو ایرانی عمل درآمد سے مشروط کرنے، اور آبنائے ہرمز سے منسلک انتظامات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان نکات کی تفصیلات اب بھی حساس ہیں اور بظاہر حتمی شکل اختیار نہیں کر سکیں۔
عالمی منڈیوں نے بھی ان مذاکرات پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔ سفارتی پیش رفت کی امیدوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، کیونکہ سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ ممکنہ معاہدہ توانائی کی رسد پر دباؤ کم کر سکتا ہے اور آبنائے ہرمز سے متعلق خطرات بھی گھٹا سکتا ہے۔ لیکن یہ امیدیں نازک ہیں۔ ایک سخت بیان یا خطے میں کوئی نئی جھڑپ ماحول کو دوبارہ بدل سکتی ہے۔
یہ مذاکرات تین ماہ سے جاری تنازع اور اپریل سے برقرار ایک نازک جنگ بندی کے پس منظر میں ہو رہے ہیں۔ اگرچہ جنگ بندی مکمل طور پر ٹوٹی نہیں، لیکن وقفے وقفے سے تشدد کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ خطے میں کشیدگی پہلے ہی وسیع دباؤ پیدا کر چکی ہے، خاص طور پر اسرائیل اور لبنان میں حزب اللہ سے متعلق محاذوں پر۔
ایران بار بار یہ شکایت کر چکا ہے کہ امریکی مؤقف میں یکسانیت نہیں۔ بقائی نے بھی کہا کہ واشنگٹن کے بدلتے ہوئے یا غیر واضح مؤقف حتمی معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ادھر امریکا میں بھی انتظامیہ پر سیاسی دباؤ موجود ہے، خاص طور پر ان حلقوں کی جانب سے جو چاہتے ہیں کہ کوئی بھی معاہدہ ایران کی جوہری صلاحیت اور علاقائی اثر و رسوخ کو مکمل طور پر address کرے۔
فی الحال تہران کا پیغام محتاط مگر بند دروازوں والا نہیں۔ بات چیت جاری ہے، کچھ امور پر سمجھ بوجھ پیدا ہوئی ہے، اور ممکنہ فریم ورک کی شکل بھی بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ لیکن ابھی کوئی دستخط شدہ معاہدہ نہیں، کوئی حتمی ٹائم لائن نہیں، اور یہ ضمانت بھی نہیں کہ باقی اختلافات ختم ہو جائیں گے۔
یوں مذاکرات ایک بار پھر اسی نازک مقام پر کھڑے ہیں: اتنی پیش رفت کہ عالمی منڈیاں حرکت میں آ جائیں، مگر اتنی نہیں کہ امن کا اعلان کیا جا سکے۔
