واشنگٹن/اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار جمعہ کو واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کریں گے، ایسے وقت میں جب پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرانے اور ایران اور امریکا کے درمیان جاری امن کوششوں کی حمایت کے لیے اپنی سفارتی سرگرمیاں تیز کر رہا ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے جمعرات کو دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنما دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیں گے اور “باہمی دلچسپی کے علاقائی و عالمی امور” پر تبادلہ خیال کریں گے۔ حکام کے مطابق خلیجی خطے میں اسلام آباد کی حالیہ ثالثی کوششیں ملاقات کے ایجنڈے کا اہم حصہ ہوں گی۔
یہ ملاقات ایک حساس وقت پر ہو رہی ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان کئی ماہ کی کشیدگی کے بعد خطے کی صورتحال بدستور نازک ہے، جبکہ عالمی دباؤ کے تحت جنگ بندی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ پاکستان، قطر اور کئی خلیجی ریاستوں کے ساتھ مل کر خاموش سفارتی رابطے بڑھا رہا ہے تاکہ کسی نئی کشیدگی کو روکا جا سکے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد خود کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطے کے ایک پل کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ پاکستانی عسکری اور سول حکام نے حالیہ ہفتوں میں تہران، ریاض اور دوحہ سمیت کئی علاقائی دارالحکومتوں سے رابطے کیے ہیں، جن کا مقصد علاقائی تجارتی راستوں کی بحالی اور آبنائے ہرمز کے اطراف استحکام برقرار رکھنے سے متعلق مذاکرات کی حمایت کرنا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار ملاقات میں پاکستان اور امریکا کے وسیع تر تعاون، تجارت، انسدادِ دہشت گردی اور علاقائی سلامتی کے امور پر بھی بات کریں گے۔ سفارتی مبصرین اس بات چیت کو قریب سے دیکھ رہے ہیں، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ واشنگٹن نے مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ بحران میں مکالمے کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا ہے۔
رواں ماہ کے آغاز میں چینی صدر شی جن پنگ نے بھی پاکستان کی سفارتی کوششوں اور ایران سے متعلق امن مذاکرات کی حمایت کو سراہا تھا، جس سے علاقائی ثالثی میں اسلام آباد کے بڑھتے ہوئے کردار کی نشاندہی ہوتی ہے۔
اگرچہ جمعہ کی ملاقات سے فوری طور پر کسی بڑے بریک تھرو کی توقع نہیں، تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ بات چیت ایسے وقت میں پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مضبوط بنا سکتی ہے جب بڑی طاقتیں خطے میں قابل اعتماد ثالثوں کی تلاش میں ہیں۔
اسحاق ڈار واشنگٹن میں اپنی مصروفیات مکمل کرنے کے بعد اسلام آباد واپس روانہ ہوں گے۔
