واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر نئے امریکی 250 ڈالر کے نوٹ پر لگانے کی تجویز نے واشنگٹن میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اس تجویز کے حامی اسے امریکہ کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر خراجِ تحسین قرار دے رہے ہیں، جبکہ ناقدین اس کی راہ میں بڑی قانونی رکاوٹوں کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
یہ تجویز ری پبلکن رکنِ کانگریس جو ولسن کے پیش کردہ “Donald J. Trump $250 Bill Act” سے منسلک ہے۔ بل میں محکمہ خزانہ کو ہدایت دینے کی بات کی گئی ہے کہ امریکہ کے 250 سال مکمل ہونے کی مناسبت سے ٹرمپ کی تصویر والا نیا 250 ڈالر فیڈرل ریزرو نوٹ جاری کیا جائے۔
تاہم منصوبے کے سامنے واضح قانونی رکاوٹ موجود ہے۔ موجودہ امریکی قانون کے تحت امریکی کرنسی اور سیکیورٹیز پر صرف کسی وفات پا چکے شخص کی تصویر شائع کی جا سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ قانون تبدیل کیے بغیر ٹرمپ، ایک زندہ صدر کی حیثیت سے، عام امریکی نوٹ پر نہیں آ سکتے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے بعض حکام نے ممکنہ 250 ڈالر کے نوٹ کے نمونہ ڈیزائنز پر بھی بات کی ہے یا انہیں آگے بڑھایا ہے۔ تاہم یہ تجویز ابھی حقیقت بننے سے کافی دور ہے۔
امریکہ اس وقت 250 ڈالر کا نوٹ جاری نہیں کرتا۔ نئی مالیت کا نوٹ متعارف کرانے کے لیے قانونی منظوری، ڈیزائن، سیکیورٹی انتظامات اور فیڈرل ریزرو کے ساتھ رابطہ ضروری ہوگا۔
حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ نوٹ ٹرمپ کو اعزاز دینے اور امریکی آزادی کے 250 سال منانے کا علامتی طریقہ ہوگا۔ مخالفین کے مطابق کسی موجودہ صدر کی تصویر کرنسی پر لگانا ایک دیرینہ جمہوری روایت کو توڑنے کے مترادف ہوگا۔
فی الحال 250 ڈالر کے نوٹ پر ٹرمپ کی تصویر ایک سیاسی تجویز ہے، منظور شدہ کرنسی تبدیلی نہیں۔ جب تک کانگریس نیا قانون منظور نہیں کرتی اور قانونی رکاوٹیں دور نہیں ہوتیں، امریکی عوام کو یہ نوٹ گردش میں دکھائی دینے کا امکان کم ہے۔
