امریکہ اور ایران کے درمیان جاری ‘سایہ دار جنگ’ کا دائرہ کار منگل کے روز اس وقت مزید وسیع ہو گیا جب دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر براہِ راست حملے کیے۔ اس تازہ کشیدگی نے برسوں سے جاری پسِ پردہ سفارتی کوششوں کو مکمل طور پر منجمد کر دیا ہے۔ تناؤ کا آغاز اس وقت ہوا جب پینٹاگون کے مطابق امریکی فورسز نے مشرقی شام میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی ایک ڈرون حملے کے جواب میں کی گئی جس میں ایک امریکی ٹھیکیدار ہلاک اور پانچ فوجی زخمی ہوئے تھے۔ تہران نے چند گھنٹوں کے اندر ہی دیر الزور کے علاقے میں امریکی اہلکاروں کے مراکز کو میزائلوں سے نشانہ بنا کر بھرپور جواب دیا۔ یہ حملے اس لڑائی میں ایک خطرناک موڑ ہیں۔ مہینوں تک یہ جھڑپیں پراکسی جنگ کے نام نہاد ‘گرے زون’ تک محدود تھیں، مگر اب براہِ راست حملوں نے اس گنجائش کو ختم کر دیا ہے جس کے ذریعے دونوں فریقین اب تک مکمل علاقائی جنگ سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے پینٹاگون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہم ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے، مگر اپنے لوگوں کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔” ان بیانات کے باوجود زمینی حقائق کچھ اور کہانی سنا رہے ہیں۔ اومان میں موجود سفارتی ذرائع، جو دونوں ممالک کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہے تھے، تصدیق کرتے ہیں کہ 2015 کے جوہری معاہدے کی بحالی سے متعلق تمام تر مواصلات معطل کر دی گئی ہیں۔ اب سفارتکاری کی جگہ جوابی کارروائیوں کا سلسلہ لے چکا ہے۔ عراق اور شام کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے یہ صورتحال نئی نہیں، تاہم اس بار حملوں کی شدت نے ثابت کیا ہے کہ جنگ کے قواعد بدل چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران کی جانب سے پراکسیز کے بجائے براہِ راست جواب دینے کا مقصد اس ‘ڈیٹرنس’ کو بحال کرنا ہے جو حالیہ امریکی پابندیوں کے بعد تہران کے خیال میں کمزور پڑ گئی تھی۔ خطے میں تعینات امریکی فوجی — جن کی تعداد عراق میں تقریباً 2500 اور شام میں 900 ہے — تنازع کا بنیادی مرکز بنے ہوئے ہیں۔ تہران ان فوجی اڈوں کو اپنی بقا کے لیے خطرہ سمجھتا ہے، جبکہ واشنگٹن کا اصرار ہے کہ یہ داعش کو دوبارہ ابھرنے سے روکنے کے لیے ضروری ہیں۔ دونوں دارالحکومتوں میں نقصانات کے جائزے لیے جا رہے ہیں، لیکن مذاکرات کی میز پر واپسی کا امکان اب بہت دور دکھائی دیتا ہے۔ اب پالیسی سازی کا اختیار سفارتکاروں کے ہاتھ سے نکل کر عسکری قیادت کے پاس چلا گیا ہے۔ سب کی نظریں اگلے 48 گھنٹوں پر ہیں۔ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق دونوں فریقین اپنے اثاثوں کو نئی پوزیشنوں پر منتقل کر رہے ہیں، جس سے یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ اگر اگلا مرحلہ شروع ہوا تو وہ اس سے کہیں زیادہ تباہ کن ہوگا۔
