تہران نے ان سوشل میڈیا رپورٹس کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ حکومت نے ان خبروں کو "بے بنیاد” اور "شرانگیز” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ افواہیں محض ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہیں۔
منگل کی شب پھیلنے والی ان افواہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے خطے کے میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ہلچل مچا دی۔ نامعلوم ذرائع سے چلنے والی ان رپورٹس میں صدر اور ایران کے طاقتور سکیورٹی حلقوں کے درمیان اختلافات کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ خبر کا اثر اتنا فوری تھا کہ تہران کے بازاروں میں کاروباری اعتماد کو وقتی جھٹکا لگا اور سرمایہ کاروں میں اضطراب دیکھا گیا۔
حکومتی ترجمان نے مقامی میڈیا سے مختصر بات چیت میں کہا، "صدر اپنے دفتر میں موجود ہیں اور معمول کے سرکاری امور سرانجام دے رہے ہیں۔” انہوں نے ان افواہوں کو "نفسیاتی جنگ” کا حصہ قرار دیا جس کا مقصد موجودہ انتظامیہ کی معاشی اصلاحات کی کوششوں کو کمزور کرنا ہے۔
مسعود پزشکیان، جو ابراہیم رئیسی کے انتقال کے بعد جولائی میں منصبِ صدارت پر فائز ہوئے، پہلے ہی کئی سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کی حکومت کو نہ صرف بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عالمی پابندیوں کا سامنا ہے، بلکہ انہیں ملک کے مذہبی حلقوں اور اصلاح پسند ووٹرز کے متضاد مطالبات کے درمیان توازن بھی برقرار رکھنا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ان افواہوں کا اتنی تیزی سے پھیلنا تہران میں موجودہ سیاسی کشیدگی کا عکاس ہے۔ اگرچہ انتظامیہ اب بھی مکمل کنٹرول میں ہے، لیکن غلط معلومات کے پھیلاؤ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سرکاری ذرائع پر عوامی اعتماد کتنا نازک اور غیر مستحکم ہے۔
حکومت نے اب ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کڑی نگرانی کا اشارہ دیا ہے تاکہ "منظم ڈس انفارمیشن مہم” کا سدِ باب کیا جا سکے۔ فی الحال صدر کی توجہ آئندہ بجٹ سائیکل پر مرکوز ہے، جو ان کے معیشت کو بحال کرنے کے وعدوں کا پہلا بڑا امتحان ہے۔
تردید کے بعد حکومت اب اس معاملے کو پیچھے چھوڑ کر اپنے ایجنڈے پر توجہ مرکوز کرنا چاہتی ہے۔ تاہم، یہ کوشش کتنی کامیاب رہتی ہے، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ انتظامیہ کتنی جلدی سیاسی غیر یقینی کے شکار عوام کو ٹھوس معاشی نتائج دے پاتی ہے۔
