پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن (POA) نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قومی کھیلوں کی نئی پالیسی میں فنڈنگ کا نظام تبدیل کیا جائے۔ پی او اے کی تجویز کے مطابق، اب گرانٹس کی تقسیم کا انحصار بین الاقوامی مقابلوں میں کھلاڑیوں کی کارکردگی پر ہونا چاہیے۔
یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزارت بین الصوبائی رابطہ (IPC) کھیلوں کی نئی قومی پالیسی کو حتمی شکل دے رہی ہے۔ پی او اے حکام کا موقف ہے کہ موجودہ یکساں فنڈنگ کا نظام ان فیڈریشنز کی حوصلہ شکنی کرتا ہے جو بین الاقوامی سطح پر میڈلز جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
پی او اے کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم شرکت کرنے والے بجٹ کے ساتھ اولمپک سطح کے نتائج کی توقع نہیں کر سکتے۔ موجودہ نظام ہر کھیل کو ایک مشغلے کے طور پر دیکھتا ہے، پیشہ ورانہ شعبے کے طور پر نہیں۔ ہمیں میرٹ پر مبنی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔”
مجوزہ پالیسی کے تحت ان کھیلوں کو ‘ٹیئر ون’ میں رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جن میں پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں، جیسے ویٹ لفٹنگ، ایتھلیٹکس اور ریسلنگ۔ پی او اے کے منصوبے کے مطابق، جو فیڈریشنز عالمی مقابلوں کے لیے کوالیفائی کریں گی، انہیں خصوصی تربیتی سہولیات اور بیرون ملک دوروں کے لیے ترجیحی فنڈز ملیں گے۔
یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پیرس اولمپکس میں ارشد ندیم کے تاریخی گولڈ میڈل نے کھیلوں کے بجٹ پر عوامی بحث کو جنم دیا ہے۔ اولمپک ایسوسی ایشن اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے حکومت پر زور دے رہی ہے کہ موجودہ کھیلوں کا ڈھانچہ بکھرا ہوا ہے اور طویل مدتی کامیابی کے لیے اسے منظم کرنا ناگزیر ہے۔
موجودہ نظام کے ناقدین کا کہنا ہے کہ بہت سی قومی فیڈریشنز میں انتظامی اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ کھلاڑیوں کی تربیت کے لیے فنڈز کم پڑ جاتے ہیں۔ پی او اے کی تجویز میں سخت آڈٹ کا مطالبہ بھی شامل ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کارکردگی پر مبنی گرانٹس صرف ٹریننگ کیمپس، کوچنگ اسٹاف اور جدید آلات پر ہی خرچ ہوں۔
وزارت بین الصوبائی رابطہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تجویز کو چھوٹی اور سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والی فیڈریشنز کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے، جنہیں خدشہ ہے کہ فنڈز کی کٹوتی ان کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
حکومت کے حتمی فیصلے تک نئی اسپورٹس پالیسی کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ کھلاڑیوں کے لیے اس مذاکرات کا نتیجہ یہ طے کرے گا کہ آیا وہ اگلے اولمپک سائیکل میں بہتر سہولیات کے ساتھ میدان میں اتریں گے، یا پھر اسی روایتی اور غیر منصفانہ فنڈنگ کے نظام کے رحم و کرم پر رہیں گے جس نے دہائیوں سے پاکستانی کھیلوں کی ترقی کو روک رکھا ہے۔
