MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
تازہ ترینعدالت اور جرائم

کوئٹہ سے ٹرین آپریشنز معطل، حکام نے سکیورٹی بحران کو وجہ قرار دیا

Last updated: مئی 29, 2026 3:21 شام
Ayesha Masood
Share
کوئٹہ سے ٹرین آپریشنز معطل، حکام نے سکیورٹی بحران کو وجہ قرار دیا
کوئٹہ سے ٹرین آپریشنز معطل، حکام نے سکیورٹی بحران کو وجہ قرار دیا
SHARE

کوئٹہ / کراچی — کوئٹہ کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑنے والی ریلوے سروسز ایک بار پھر ایک اور دن کے لیے معطل رہیں، اور حکام نے "ناگزیر حالات” کو اس تعطل کی وجہ قرار دیا۔ یہ بندش اب کئی مسلسل دنوں پر محیط ہو چکی ہے، ہزاروں مسافر پھنسے ہوئے ہیں، بلوچستان بھر میں روزمرہ سفر بری طرح متاثر ہوا ہے، اور صوبے میں ریلوے بنیادی ڈھانچے کی حفاظت اور مستقبل پر سنگین سوالات نے ایک بار پھر سر اٹھا لیا ہے۔

یہ سلسلہ پاکستان کی حالیہ تاریخ کے ریلوے انفراسٹرکچر پر ہونے والے ایک ہولناک دہشت گردانہ حملے کے بعد شروع ہوا — ایک ایسا سانحہ جس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا اور حکام کو کوئٹہ آنے اور جانے والی تمام ٹرین سروسز پر وسیع احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔

جمعے کو ریلوے حکام نے تصدیق کی کہ کوئٹہ اور بلوچستان کے مختلف حصوں میں ٹرین سروسز معطل ہیں۔ کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس روانہ نہیں ہو سکی جبکہ پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس کو جیکب آباد سے واپس موڑ دیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ بلوچستان میں ٹرین آپریشنز پچھلے دو دنوں سے معطل ہیں جبکہ بولان میل اور چمن پسنجر سروس پہلے سے ہی بند تھی۔

اس وقت تین بڑے ریلوے روٹ مکمل طور پر بند ہیں:

جعفر ایکسپریس (کوئٹہ–پشاور): دونوں سمتوں میں معطل۔ آنے والی ٹرینوں کو جیکب آباد سے واپس کیا جا رہا ہے۔

بولان میل (کوئٹہ–کراچی): تازہ تعطل سے قبل ہی بند کر دی گئی تھی۔

کوئٹہ–چمن پسنجر سروس: غیر معینہ مدت کے لیے معطل۔

یعنی کوئٹہ — جو بلوچستان کا دارالحکومت اور تجارت، آمدورفت اور روزمرہ سفر کا ایک اہم مرکز ہے — عملاً ریل نیٹ ورک سے کٹ گیا ہے۔

موجودہ معطلی براہ راست 24 مئی 2026 کو کوئٹہ کے چمن پھاٹک کے قریب ہونے والے خوفناک دہشت گردانہ حملے سے جڑی ہوئی ہے۔ صوبائی حکومت نے "گہرے دکھ اور تشویش” کے ساتھ تصدیق کی کہ کوئٹہ کے چمن پھاٹک کے قریب ایک شٹل ٹرین کو گاڑی بردار خودکش دھماکے کا نشانہ بنایا گیا، جس میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔

مختلف رپورٹوں کے مطابق اس دھماکے میں کم از کم 47 افراد جاں بحق اور 98 زخمی ہوئے۔ یہ ٹرین پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کو کوئٹہ کینٹ سے جعفر ایکسپریس تک پہنچانے کے لیے چلائی جا رہی تھی۔ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔

بی ایل اے نے مبینہ بمبار کی شناخت 25 سالہ بلال شاہوانی کے طور پر کی، جو کللی سردے کا رہائشی اور مجید بریگیڈ کا رکن بتایا گیا۔ سیکیورٹی فورسز نے اس کے گھر پر چھاپہ مارا اور متعدد رشتہ داروں کو حراست میں لیا۔

کوئٹہ سروسز کی معطلی نے پاکستان کے پورے ریل نیٹ ورک پر اثرات مرتب کیے۔ کراچی سے روانہ ہونے والی کئی ٹرینیں بھی تاخیر کا شکار رہیں۔ تیزگام اپنے مقررہ وقت شام 5:30 بجے کے بجائے رات 1:30 بجے روانہ ہوئی، جس پر مسافروں نے کینٹ اسٹیشن پر احتجاج کیا۔ سکھر ایکسپریس، جو رات 11:30 بجے روانہ ہونی تھی، جمعے کی صبح تک بھی نہیں گئی تھی۔

بڑے اسٹیشنوں پر پھنسے مسافروں کو سروس بحالی کے بارے میں کوئی واضح معلومات نہیں دی جا رہیں، اور ریلوے عملہ پریشان حال مسافروں کی بڑھتی ہوئی مایوسی سنبھالنے میں مشکل کا سامنا کر رہا ہے۔

مئی 2026 کا حملہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا۔ یہ تازہ تعطل بلوچستان میں گزشتہ دو سالوں کے دوران ریل ٹریفک میں بار بار رکاوٹوں کے ایک سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ حکام کے مطابق صوبے میں ٹرین سروسز اکثر دہشت گردانہ حملوں، سیکیورٹی آپریشنز اور دور دراز علاقوں میں پٹریوں کی تخریب کاری کی وجہ سے بند کرنی پڑتی ہیں۔

بڑے واقعات کی ترتیب:

نومبر 2024: کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر خودکش دھماکے میں کم از کم 32 افراد ہلاک اور 55 زخمی ہوئے۔ سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر جعفر ایکسپریس اور بولان میل چار دن کے لیے معطل کر دی گئیں۔

مارچ 2025: جعفر ایکسپریس پر بلوچستان کے ماچ علاقے میں مسلح ملیشیا نے حملہ کیا، کم از کم 6 فوجی اہلکار شہید ہوئے اور 450 سے زائد مسافروں کو یرغمال بنایا گیا۔ بی ایل اے نے ذمہ داری قبول کی۔

مئی 2026: چمن پھاٹک کے قریب تازہ خودکش بمباری — درجنوں ہلاک، سینکڑوں زخمی۔

بی ایل اے ایک مسلح بلوچ علیحدگی پسند تنظیم ہے جو نہ صرف آزاد ریاست کا مطالبہ کرتی ہے بلکہ علاقے میں چینی سرمایہ کاری کی بھی سخت مخالف ہے۔ حالیہ برسوں میں اس تنظیم نے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے، سیکیورٹی قافلوں اور عوامی مقامات کو خاص طور پر نشانہ بنایا ہے۔

پاکستانی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ایسی دہشت گردانہ کارروائیاں ریاست کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں، اور انہوں نے حملے کے ذمہ داروں کو کیفرکردار تک پہنچانے کا عہد کیا ہے۔

ریلوے بلوچستان کی معاشی شہ رگ ہے۔ لاکھوں مزدور، طلبہ، تاجر اور خاندان ٹرینوں کو اپنے طویل سفر کا واحد سستا اور قابل بھروسہ ذریعہ سمجھتے ہیں۔ جعفر ایکسپریس اکیلے کوئٹہ اور پشاور کے درمیان 1,632 کلومیٹر کا سفر طے کرتی ہے، اور اس راستے میں بلوچستان، سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے درجنوں شہر اور قصبے آتے ہیں۔

تمام بڑے روٹ معطل ہونے اور سروس بحالی کی کوئی تاریخ نہ ہونے کی وجہ سے معاشی اور سماجی نقصان بڑھتا جا رہا ہے۔ ریل مال بردار پر انحصار کرنے والے تاجر خسارے میں ہیں۔ پہلے سے ٹکٹ بک کروانے والے مسافر اسٹیشنوں پر پھنسے ہیں یا مہنگے سڑکی سفر پر مجبور ہیں۔ اپنے پیاروں کا انتظار کرنے والے خاندان بے یقینی اور پریشانی میں مبتلا ہیں۔

ریلوے حکام نے ابھی تک "ناگزیر حالات” کے علاوہ کوئی واضح وجہ نہیں بتائی۔ حکام کا کہنا ہے کہ مسافروں کو صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور سروس بحالی کا فیصلہ حالات کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔

سروس بحالی کی کوئی ٹھوس تاریخ نہیں دی گئی، اور حکام نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ سروس دوبارہ شروع کرنے سے پہلے کیا سیکیورٹی اقدامات کیے جائیں گے۔ شفاف معلومات کی اس کمی نے مسافروں کی مایوسی اور عوامی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

کوئٹہ سے ٹرین آپریشنز کی معطلی محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں — یہ بلوچستان میں ایک گہرے اور ابھی تک حل نہ ہونے والے سیکیورٹی بحران کا عکس ہے۔ ہر حملہ، ہر معطلی، ہر پھنسا ہوا مسافر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں تنازع ابھی زندہ ہے، خطرناک ہے، اور اس کا کوئی فوری حل نظر نہیں آتا۔

جب تک ریلوے حکام حالات کا جائزہ لیتے ہیں اور سیکیورٹی فورسز متاثرہ علاقوں میں آپریشن تیز کرتی ہیں — بلوچستان کے عوام اور ان لاکھوں لوگ جو اس کے ریل رابطوں پر انحصار کرتے ہیں — انتظار میں ہیں۔ اس امید کے ساتھ کہ ٹرینیں دوبارہ چلیں گی، اور جب چلیں تو محفوظ ہوں گی۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article "کراچی میرا پیرس ہے": شرمیلا فاروقی کا جذباتی موازنہ، ملک بھر میں بحث چھڑ گئی "کراچی میرا پیرس ہے”: شرمیلا فاروقی کا جذباتی موازنہ، ملک بھر میں بحث چھڑ گئی
Next Article یورپ کے سب سے بڑے غیر قانونی کوڑے کے ڈھیر کی صفائی '2028 میں شروع ہو سکتی ہے' — مگر شکوک، تاخیر اور اخراجات کا سایہ برقرار یورپ کے سب سے بڑے غیر قانونی کوڑے کے ڈھیر کی صفائی ‘2028 میں شروع ہو سکتی ہے’ — مگر شکوک، تاخیر اور اخراجات کا سایہ برقرار
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
امریکی سفیر کی بے دخلی: کینیڈین پٹیشن پر 1 لاکھ 70 ہزار سے زائد دستخط
امریکی سفیر کی بے دخلی: کینیڈین پٹیشن پر 1 لاکھ 70 ہزار سے زائد دستخط
تازہ ترین سیاست
اگست 16, 2026
بیلجیئم: پرانی بریوری کی کھدائی کے دوران ایک کروڑ ڈالر کا سونا برآمد
بیلجیئم: پرانی بریوری کی کھدائی کے دوران ایک کروڑ ڈالر کا سونا برآمد
بریکنگ نیوز
اگست 16, 2026
آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن: ایل اے 17 پر چوہدری یاسین راٹھور کی کامیابی برقرار
آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن: ایل اے 17 پر چوہدری یاسین راٹھور کی کامیابی برقرار
تازہ ترین سیاست
اگست 16, 2026
اینتھروپک کے ممکنہ آئی پی او کے لیے 200 ارب ڈالر کی آمدنی کا ہدف
اینتھروپک کے ممکنہ آئی پی او کے لیے 200 ارب ڈالر کی آمدنی کا ہدف
Technology تازہ ترین
اگست 16, 2026
کارتک آریان کو صدر دروپدی مرمو کی یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کی دعوت
کارتک آریان کو صدر دروپدی مرمو کی یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کی دعوت
انٹرٹینمنٹ تازہ ترین
اگست 16, 2026
پون ملہوترا کی یامی گوتم، کارتک آریان اور سنجے مشرا کی اداکاری کی تعریف
پون ملہوترا کی یامی گوتم، کارتک آریان اور سنجے مشرا کی اداکاری کی تعریف
انٹرٹینمنٹ تازہ ترین
اگست 16, 2026

You Might Also Like

عدالت اور جرائم

نوشہرہ کلاں: منگنی کی تقریب سے واپس جانے والی بس پر ملزم کی اندھا دھند فائرنگ، 7 سالہ بچی جاں بحق، 16 سالہ طالبہ شدید زخمی

By Hamza Baig
نادرا کا سوشل میڈیا صارفین کے لیے اہم اقدام: جعلی اکاؤنٹس کے خلاف گھیرا تنگ
Cyber Securityتازہ ترین

نادرا کا سوشل میڈیا صارفین کے لیے اہم اقدام: جعلی اکاؤنٹس کے خلاف گھیرا تنگ

By Haris Ali
عدالت اور جرائم

رکاوٹوں کا خاتمہ: اسٹیوٹا اور سندھ جیل خانہ جات قیدیوں کو ہنر مند بنانے کے لیے یکجا

By Jaweria Ahmed
عدالت اور جرائم

کراچی پولیس کی ہفتہ وار کارروائیاں، 681 ملزمان گرفتار

By Jaweria Ahmed
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?