ایک معروف دل کے سرجن نے خبردار کیا ہے کہ روزمرہ استعمال ہونے والی بعض غذائیں، جو اکثر گھروں کے باورچی خانوں میں موجود ہوتی ہیں، طویل مدت میں دل کی بیماریوں کے خطرے میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ غذائیں عام طور پر استعمال کی جاتی ہیں، لیکن ان کا ضرورت سے زیادہ استعمال دل کی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق زیادہ مقدار میں نمک، پراسیسڈ گوشت، میٹھے مشروبات، ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس اور ٹرانس فیٹس پر مشتمل غذائیں بلند فشارِ خون، کولیسٹرول میں اضافے، موٹاپے اور شریانوں کی بیماریوں سے منسلک ہو سکتی ہیں۔ یہ تمام عوامل دل کے دورے اور فالج کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔
دل کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پراسیسڈ فوڈز میں موجود اضافی سوڈیم اور غیر صحت بخش چکنائیاں خون کی نالیوں پر دباؤ بڑھاتی ہیں، جبکہ زیادہ چینی والی غذائیں ذیابیطس اور موٹاپے کے امکانات میں اضافہ کر سکتی ہیں، جو قلبی امراض کے اہم خطراتی عوامل سمجھے جاتے ہیں۔
ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ دل کی صحت برقرار رکھنے کے لیے تازہ پھلوں، سبزیوں، دالوں، ثابت اناج، مچھلی اور صحت بخش چکنائیوں پر مشتمل متوازن غذا کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ اس کے ساتھ باقاعدہ ورزش، مناسب نیند اور تمباکو نوشی سے اجتناب بھی دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی ایک غذا کو مکمل طور پر ترک کرنے کے بجائے متوازن خوراک اور اعتدال پر مبنی طرزِ زندگی اپنانا زیادہ مؤثر حکمتِ عملی ہے۔ ان کے مطابق غذائی عادات میں چھوٹی لیکن مستقل مثبت تبدیلیاں طویل مدت میں دل کی صحت کے لیے نمایاں فوائد فراہم کر سکتی ہیں۔
