عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران کراچی کے مختلف سرکاری اور نجی اسپتالوں میں معدے اور نظامِ ہاضمہ سے متعلق بیماریوں کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ طبی ماہرین اس اضافے کی بڑی وجہ گوشت کا ضرورت سے زیادہ استعمال، غیر متوازن غذا اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل نہ کرنا قرار دے رہے ہیں۔
اسپتال ذرائع کے مطابق تعطیلات کے دوران ایمرجنسی وارڈز میں پیٹ درد، بدہضمی، اسہال، قے، گیس، تیزابیت اور فوڈ پوائزننگ جیسی شکایات کے ساتھ آنے والے مریضوں کی تعداد معمول سے زیادہ رہی۔ بچوں، بزرگوں اور پہلے سے معدے کے امراض میں مبتلا افراد میں پیچیدگیوں کے کیسز بھی رپورٹ ہوئے۔
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ عید کے موقع پر سرخ گوشت، چکنائی والی غذاؤں، باربی کیو اور مصالحہ دار کھانوں کا مسلسل استعمال نظامِ ہاضمہ پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے۔ اس کے علاوہ گوشت کو مناسب درجہ حرارت پر محفوظ نہ رکھنے یا صفائی کے ناقص انتظامات کے باعث خوراک میں بیکٹیریا کی افزائش کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، جو معدے کی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔
ڈاکٹروں نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ گوشت کا اعتدال کے ساتھ استعمال کریں، زیادہ پانی پئیں، تازہ پھل اور سبزیاں غذا میں شامل کریں اور کھانے کی تیاری و ذخیرہ کرنے کے دوران صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شدید پیٹ درد، مسلسل قے، پانی کی کمی یا خون آلود اسہال کی صورت میں فوری طور پر طبی امداد حاصل کی جائے۔
صحت کے ماہرین کے مطابق عید کے بعد بھی متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانا ضروری ہے تاکہ معدے اور نظامِ ہاضمہ سے متعلق مسائل سے بچا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ معمولی احتیاطی تدابیر اختیار کرکے تعطیلات کے دوران پیدا ہونے والے بیشتر طبی مسائل سے مؤثر طور پر بچا جا سکتا ہے۔
