عالمی دوا ساز صنعت میں امریکی تسلط کو شدید دھچکا پہنچ رہا ہے۔ دہائیوں تک امریکی کمپنیوں کی ایجادات کا دنیا بھر میں سکہ چلتا رہا، لیکن اب تیزی سے بدلتے ہوئے منظرنامے میں چین ایک بڑے حریف کے طور پر ابھر چکا ہے۔
ریاستی سطح پر سرمایہ کاری اور کلینیکل ٹرائلز کے وسیع تر نیٹ ورک نے چین کو تحقیق و ترقی (R&D) کی دوڑ میں صف اول میں لا کھڑا کیا ہے۔ واشنگٹن میں اس صورتحال پر ہلچل مچی ہوئی ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان نے ‘بائیو سیکیور ایکٹ’ (BIOSECURE Act) کے ذریعے اپنی میڈیکل سپلائی چین کو چینی کمپنیوں، جیسے کہ بی جی آئی گروپ اور ووکسی ایپٹیک، سے الگ کرنے کی کوشش تیز کر دی ہے۔ امریکی قانون سازوں کا موقف ہے کہ یہ کمپنیاں جینیاتی ڈیٹا کے غلط استعمال کے ذریعے قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
تاہم، یہ قانون سازی ایک تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے
امریکہ اب محض پیسے یا پرانی ٹیکنالوجی کے زور پر اس مسابقت کو جیت نہیں سکتا۔ چینی تحقیقی نتائج میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ سال 2023 میں پہلی بار چین میں مقامی کمپنیوں کی جانب سے نئی ادویات کے لیے دائر کردہ درخواستوں کی تعداد بین الاقوامی کمپنیوں سے تجاوز کر گئی۔ چین کی بائیو ٹیک صنعت اب محض نقل تک محدود نہیں رہی؛ ریاستی حکمت عملی کے تحت ہسپتالوں کے وسیع نیٹ ورک کو کلینیکل ٹرائلز کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس نے تحقیق کی رفتار کئی گنا بڑھا دی ہے۔ ایک عالمی ہیلتھ کنسلٹنسی کے سینیئر تجزیہ کار کا کہنا ہے، "ہم چین میں کام کی جس رفتار کو دیکھ رہے ہیں، مغرب میں اس کا اعادہ کرنا تقریباً ناممکن ہے۔
وہ نہ صرف زیادہ پیٹنٹ فائل کر رہے ہیں، بلکہ بہت کم لاگت میں ان ادویات کو کلینیکل مراحل سے گزار کر مارکیٹ تک پہنچا رہے ہیں۔” لاگت کا فرق واضح ہے۔ امریکہ میں نئی دوا کی تیاری اربوں ڈالر کا جوکھم اور ایک دہائی سے زیادہ کا وقت مانگتی ہے۔ اس کے برعکس، چین میں مصنوعی ذہانت (AI) کا انضمام اور سستی لیبر نے اس عمل کو انتہائی مختصر کر دیا ہے۔ امریکی کمپنیاں، جو کلینیکل ٹرائلز کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور پیچیدہ ہیلتھ کیئر سسٹم میں الجھی ہوئی ہیں، اس مقابلے میں پیچھے رہتی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ صورتحال کیمبرج سے سان فرانسسکو تک کے بورڈ رومز میں ایک نئی کھلبلی کا باعث بنی ہے۔
بڑی فارماسیوٹیکل کمپنیاں، جو کنٹریکٹ ریسرچ کے لیے چینی لیبز پر انحصار کرتی تھیں، اب اپنے متبادل تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ چین سے مکمل علیحدگی انہیں مینوفیکچرنگ صلاحیت سے محروم کر سکتی ہے۔ سیاسی کشیدگی تو محض شروعات ہے۔
اگر امریکہ اپنی بائیو ٹیک صنعت کے گرد حفاظتی دیوار کھڑی کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو اسے ان ڈیٹا پولز تک رسائی سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں جو آج طبی دریافتوں کی رفتار کو تیز کر رہے ہیں۔ اگر امریکہ کینسر کے علاج اور جین ایڈیٹنگ جیسی اگلی نسل کی ٹیکنالوجیز کی دوڑ میں اپنی برتری کھو دیتا ہے، تو اس کے اثرات محض اسٹاک مارکیٹ تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اگلی بڑی طبی دریافت پر "میڈ ان چائنا” کا لیبل لگنے کے امکانات اتنے ہی روشن ہوں گے جتنے کسی امریکی لیبارٹری سے آنے والی دوا کے ہیں۔
