بینی، جمہوریہ کانگو — عالمی ادارہ صحت (WHO) کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم گبریسس کے دورہ شمالی کیوو کے دوران صورتحال انتہائی سنگین دکھائی دی ہے۔ مشرقی جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی وبا اب ایک قابو میں رہنے والے بحران سے نکل کر ایک غیر مستحکم ہنگامی صورتحال میں تبدیل ہو چکی ہے۔ میدانِ عمل میں موجود امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ وائرس اب گنجان آباد علاقوں کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں متاثرہ افراد کے رابطوں کا سراغ لگانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے ایبولا کے خلاف جاری مہم کو مقامی آبادی کے عدم اعتماد اور مسلح گروہوں کی کارروائیوں کے باعث شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
ایک بین الاقوامی طبی تنظیم کے فیلڈ کوآرڈینیٹر نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم اب ایسے کیسز دیکھ رہے ہیں جن کے پھیلاؤ کا سراغ لگانا ہمارے بس سے باہر ہے۔ جب تک ہم ایک مریض کو پکڑتے ہیں، وہ اپنے پورے محلے کو متاثر کر چکا ہوتا ہے، جس سے وبا کے اچانک پھیلاؤ کا خطرہ کئی گنا بڑھ گیا ہے۔“ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کا دورہ حکمت عملی کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی ایک کوشش ہے۔ مقامی رہنماؤں اور ہیلتھ ورکرز سے ملاقاتوں کے دوران ڈاکٹر ٹیڈروس نے تسلیم کیا کہ موجودہ حفاظتی پروٹوکول وائرس کی رفتار کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اب زور اس بات پر ہے کہ بین الاقوامی نگرانی کے بجائے مقامی بااثر شخصیات کو شامل کیا جائے
جن پر عوام اعتماد کرتے ہیں۔ تاریخ کی دوسری بڑی ایبولا وبا اب تک سینکڑوں جانیں لے چکی ہے۔ تاہم، اعداد و شمار مکمل تصویر نہیں دکھاتے۔ ہیلتھ ورکرز مسلح باغیوں کے مسلسل خوف کے سائے میں کام کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے کئی کلینکس کو عین اس وقت بند کرنا پڑا جب ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ تجرباتی ویکسین کا استعمال اس وبا کے خلاف سب سے بڑا ہتھیار رہا ہے، لیکن یہ کوئی جادوئی حل ثابت نہیں ہوا۔ مسلح جھڑپوں کے باعث سپلائی چین بار بار متاثر ہوتی ہے، اور علاقے کا دشوار گزار جغرافیہ ٹیموں کی بروقت پہنچ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
جب ڈاکٹر ٹیڈروس گوما میں ڈیٹا کا جائزہ لے رہے ہیں، تو اصل سوال یہ نہیں کہ موجودہ حکمت عملی کام کر رہی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا یہ وائرس کو کیوو صوبے کے بڑے شہری مراکز تک پہنچنے سے روکنے کے لیے کافی تیز ہے۔ اگر زمینی حقائق کے مطابق فوری اور ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے، تو اس وبا کو علاقائی تباہی بننے سے روکنے کا موقع ہاتھ سے نکل جائے گا۔
