مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کے تحت سائنسدانوں نے ایک نیا اے آئی ماڈل تیار کیا ہے جو دماغی رسولیوں (Brain Tumors) کی تشخیص اور درجہ بندی کا عمل چند سیکنڈز میں مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی دماغی کینسر کے مریضوں کے لیے تیز تر اور زیادہ درست تشخیص فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
روایتی طریقوں میں دماغی رسولیوں کی تشخیص کے لیے ٹشو نمونوں کے تجزیے اور لیبارٹری معائنے میں گھنٹوں یا بعض اوقات کئی دن لگ سکتے ہیں۔ تاہم نئے اے آئی ماڈل کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ طبی تصاویر اور حیاتیاتی ڈیٹا کا فوری تجزیہ کرکے رسولی کی نوعیت اور ممکنہ خصوصیات کی نشاندہی کر سکے۔
محققین کا کہنا ہے کہ ابتدائی آزمائشوں میں اس ماڈل نے مختلف اقسام کے دماغی رسولیوں کی شناخت میں اعلیٰ سطح کی درستگی کا مظاہرہ کیا۔ تیز رفتار نتائج سرجنز اور آنکولوجسٹز کو علاج کے بارے میں فوری فیصلے کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، خصوصاً ایسے مواقع پر جب آپریشن کے دوران فوری تشخیصی معلومات درکار ہوں۔
ماہرین کے مطابق اے آئی پر مبنی یہ نظام انسانی ماہرین کی جگہ لینے کے لیے نہیں بلکہ ان کی معاونت کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے تشخیص کے عمل کو تیز، مؤثر اور زیادہ معیاری بنایا جا سکتا ہے، جبکہ پیچیدہ کیسز میں ماہرین کو اضافی معلومات بھی فراہم کی جا سکتی ہیں۔
تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی کلینیکل آزمائشوں میں بھی مثبت نتائج برقرار رہے تو یہ ٹیکنالوجی دنیا بھر کے اسپتالوں اور کینسر مراکز میں دماغی رسولیوں کے علاج کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلی لا سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف تشخیص کا وقت کم ہوگا بلکہ مریضوں کے لیے بروقت علاج اور بہتر نتائج کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگرچہ نتائج حوصلہ افزا ہیں، تاہم اس ٹیکنالوجی کے وسیع پیمانے پر استعمال سے قبل مزید تحقیق، ریگولیٹری منظوری اور حقیقی طبی ماحول میں اس کی کارکردگی کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
