سندھ محکمہ صحت میں حالیہ اعلیٰ سطحی تقرریوں اور تبادلوں نے ایک نئی انتظامی اور پیشہ ورانہ بحث کو جنم دے دیا ہے، جہاں ہیلتھ مینجمنٹ کیڈر (HMC) سے وابستہ افسران نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے تقرریوں کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب محکمہ صحت کے اہم انتظامی عہدوں پر نئی تعیناتیوں کے دوران ہیلتھ مینجمنٹ کیڈر کے متعدد سینئر افسران کو نظرانداز کیے جانے کے الزامات سامنے آئے۔ بعض افسران کا مؤقف ہے کہ متعلقہ قواعد و ضوابط کے تحت مخصوص عہدے ہیلتھ مینجمنٹ کیڈر کے افسران کے لیے مختص ہیں، تاہم ان اسامیوں پر دیگر کیڈرز سے تعلق رکھنے والے افراد کو تعینات کیا جا رہا ہے۔
صحت کے شعبے سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ میں پہلے ہی ہیلتھ مینجمنٹ کیڈر کو طویل عرصے سے ترقیوں اور انتظامی مواقع کی کمی کا سامنا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گریڈ 20 کی سطح پر بڑی تعداد میں تکنیکی اور انتظامی عہدے خالی پڑے ہیں، جس کے باعث محکمہ صحت کو پالیسی سازی، نگرانی اور عوامی صحت کے چیلنجز سے نمٹنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ہیلتھ مینجمنٹ کیڈر کے افسران کا مؤقف ہے کہ صحت عامہ، اسپتالوں کے انتظام اور بیماریوں سے نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ افسران کو اہم عہدوں پر تعینات کرنا نظام کی مؤثر کارکردگی کے لیے ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تجربہ کار افسران کو نظرانداز کرنے سے ادارہ جاتی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ترقیوں اور تعیناتیوں کے معاملات کو قواعد کے مطابق آگے بڑھایا جا رہا ہے اور زیر التوا سینیارٹی اور پروموشن کے معاملات کو بھی حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق محکمہ انسانی وسائل کی کمی دور کرنے اور انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف اصلاحاتی اقدامات پر کام کر رہا ہے۔
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ سندھ کو اس وقت متعدی بیماریوں، اسپتالوں کے انتظامی مسائل اور صحت عامہ کے دیگر چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے میں محکمہ صحت میں شفاف تقرریاں، پیشہ ورانہ مہارت کی بنیاد پر تعیناتیاں اور انتظامی استحکام انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق پائیدار اصلاحات اور تمام متعلقہ فریقین کے درمیان اعتماد کی فضا ہی صحت کے نظام کی مؤثر کارکردگی کو یقینی بنا سکتی ہے۔
