پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اسد قیصر نے خبردار کیا ہے کہ اگر پارٹی کو مسلسل سیاسی جگہ نہ دی گئی تو وہ سیاسی نظام چھوڑنے پر “سنجیدگی سے غور” کر رہی ہے۔ ان کے اس بیان سے گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کے حوالے سے سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پولیس نے انہیں اس وقت تقریباً 40 منٹ تک روکے رکھا جب وہ اسکردو جانے والی پرواز کے لیے اسلام آباد ایئرپورٹ جا رہے تھے، جہاں انہیں پی ٹی آئی کی انتخابی مہم میں شرکت کرنی تھی۔ ان کے مطابق انہیں اس وقت چھوڑا گیا جب پرواز روانہ ہو چکی تھی۔
اسد قیصر نے اس واقعے کو گلگت بلتستان انتخابات سے قبل پی ٹی آئی پر دباؤ کے ایک بڑے سلسلے سے جوڑا۔ انہوں نے سوال کیا، “ایسا الیکشن کون قبول کرے گا؟” ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں انتخابات کرانے کے بجائے “سلیکشن” کر لینا بہتر ہوگا۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ پارٹی اب بھی جمہوری راستہ چاہتی ہے، جس میں نیا چارٹر آف ڈیموکریسی، آزادانہ اور شفاف انتخابات، اور ایسا الیکشن کمیشن شامل ہے جس پر تمام سیاسی قوتوں کو اعتماد ہو۔ تاہم ان کا انتباہ واضح تھا کہ اگر پی ٹی آئی کے مینڈیٹ کا احترام نہ کیا گیا تو “ہم کوئی بھی فیصلہ کر سکتے ہیں۔”
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس کا مطلب اسمبلیوں سے اجتماعی استعفے یا خیبر پختونخوا اسمبلی کی تحلیل ہو سکتا ہے، تو قیصر نے حتمی جواب دینے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا کہ نظام سے نکلنے کے “مختلف طریقے” ہیں، مگر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
حکومت نے پی ٹی آئی کا الزام مسترد کر دیا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ حکام کا قیصر کو روکنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ ان کے مطابق یہ واقعہ راولپنڈی میں آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کی موجودگی کے باعث جڑواں شہروں میں سیکیورٹی انتظامات سے متعلق تھا۔
ایکسپریس ٹریبیون نے بھی رپورٹ کیا کہ قیصر نے پنجاب پولیس پر الزام لگایا کہ انہیں اسلام آباد ایئرپورٹ میں داخل ہونے سے روکا گیا اور اس وقت تک روکے رکھا گیا جب تک ان کی پرواز روانہ نہیں ہو گئی۔
یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی پہلے ہی گلگت بلتستان میں مبینہ پابندیوں پر احتجاج کر رہی ہے، جہاں انتخابی مہم پاکستان کے طویل سیاسی تناؤ کا ایک اور اہم محاذ بن چکی ہے۔ فی الحال قیصر کا بیان کسی حتمی اعلان سے زیادہ دباؤ بڑھانے کا اشارہ لگتا ہے، مگر یہ سنجیدہ اشارہ ہے اور حکومت کے لیے واضح پیغام بھی۔
