کینسر کے علاج کے میدان میں CAR-T سیل تھراپی ایک انقلابی پیش رفت کے طور پر سامنے آئی ہے، جو بعض اقسام کے خون کے کینسر میں ایسے مریضوں کے لیے نئی امید پیدا کر رہی ہے جن پر روایتی علاج مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جدید امیونوتھراپی جسم کے اپنے مدافعتی نظام کو کینسر کے خلاف زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
CAR-T (Chimeric Antigen Receptor T-cell) تھراپی میں مریض کے اپنے ٹی سیلز (T Cells) کو جسم سے نکال کر جینیاتی طور پر تبدیل کیا جاتا ہے تاکہ وہ کینسر کے خلیات کو پہچان کر ان پر حملہ کر سکیں۔ بعد ازاں ان ترمیم شدہ خلیات کو دوبارہ مریض کے جسم میں داخل کیا جاتا ہے، جہاں وہ کینسر کے خلیات کو نشانہ بناتے ہیں۔
ابتدائی اور جاری طبی آزمائشوں کے نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ CAR-T سیل تھراپی بعض اقسام کے لیوکیمیا، لمفوما اور دیگر خون کے کینسر کے مریضوں میں قابلِ ذکر کامیابی حاصل کر رہی ہے۔ کئی مریضوں میں بیماری کے آثار نمایاں طور پر کم ہوئے یا مکمل طور پر ختم ہو گئے، خصوصاً ایسے افراد میں جنہوں نے پہلے متعدد علاج آزما لیے تھے۔
ماہرین کے مطابق CAR-T تھراپی روایتی کیموتھراپی سے مختلف ہے کیونکہ یہ براہِ راست کینسر کے خلیات کو نشانہ بناتی ہے، جبکہ کیموتھراپی صحت مند خلیات کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس جدید طریقہ علاج کو ذاتی نوعیت کی کینسر تھراپی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ CAR-T سیل تھراپی اب بھی پیچیدہ اور مہنگا علاج ہے، اور اس کے ساتھ بعض سنگین مضر اثرات بھی منسلک ہو سکتے ہیں، جن میں شدید مدافعتی ردِعمل اور اعصابی پیچیدگیاں شامل ہیں۔ اس لیے علاج صرف خصوصی مراکز میں ماہر طبی ٹیموں کی نگرانی میں کیا جاتا ہے۔
تحقیق کار اب اس ٹیکنالوجی کو خون کے کینسر سے آگے بڑھا کر ٹھوس رسولیوں (Solid Tumors) کے علاج میں بھی استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر مستقبل کی تحقیقات کامیاب رہتی ہیں تو CAR-T سیل تھراپی کینسر کے علاج کے طریقوں میں بنیادی تبدیلی لا سکتی ہے اور لاکھوں مریضوں کے لیے بقا کے امکانات بہتر بنا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کیموتھراپی اب بھی کینسر کے علاج کا ایک اہم ستون ہے، لیکن CAR-T سیل تھراپی جدید آنکولوجی میں ایک نئے دور کی نمائندگی کر رہی ہے، جہاں علاج کو ہر مریض کی مخصوص بیماری کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
