سرے: جنوبی انگلینڈ کے ایک نایاب قدرتی علاقے کو تقریباً دو صدیوں تک ایک مصروف سڑک نے دو حصوں میں تقسیم کیے رکھا۔ اب، ٹریفک کو زیرِ زمین سرنگ میں منتقل کیے جانے کے کئی سال بعد، ہنڈہیڈ کے مقام پر پرانی اے تھری سڑک کا راستہ جنگلی حیات کے لیے ایک خاموش گزرگاہ بن چکا ہے۔
یہ کہانی ہنڈہیڈ کامنز اینڈ دی ڈیولز پنچ باؤل سے جڑی ہے، جو سرے میں واقع ایک نایاب ہیتھ لینڈ اور جنگلاتی علاقہ ہے۔ یہ علاقہ نیشنل ٹرسٹ کے زیرِ انتظام ہے۔ ڈیولز پنچ باؤل ایک بڑا قدرتی پیالہ نما علاقہ ہے، جسے حیاتیاتی اہمیت کے باعث خصوصی تحفظ حاصل ہے۔ یہاں ڈھلوانیں، جھاڑیاں، ندی نما بہاؤ اور جنگلاتی حصے موجود ہیں۔
کئی دہائیوں تک پرانی اے تھری سڑک لندن اور پورٹس ماؤتھ کے درمیان ٹریفک کو ڈیولز پنچ باؤل کے کنارے سے گزارتی رہی۔ یہ راستہ شور، رش اور حادثات کا سبب تھا۔ مگر فطرت کے لیے اس کا نقصان اس سے بھی بڑا تھا: اس نے ایک ہی قدرتی علاقے کو دو حصوں میں بانٹ دیا تھا۔
جانور جو پہلے آزادانہ طور پر ایک حصے سے دوسرے حصے تک جا سکتے تھے، تیز رفتار گاڑیوں کی وجہ سے رک گئے۔ پرندوں، رینگنے والے جانوروں، چھوٹے ممالیہ اور کیڑوں کے لیے یہ سڑک ایک خطرناک رکاوٹ بن چکی تھی۔
یہ صورتحال 2011 میں بدلی، جب ہنڈہیڈ ٹنل کھولی گئی۔ اس سرنگ نے ٹریفک کو قدرتی منظرنامے کے نیچے منتقل کر دیا، جس کے بعد پرانی سڑک کے ایک بڑے حصے کو ختم کر کے دوبارہ فطرت کے حوالے کیا گیا۔ جہاں کبھی گاڑیاں اور لاریاں گزرتی تھیں، وہاں اب زمین کو بھر کر پودے لگائے گئے اور اسے آہستہ آہستہ اردگرد کے ہیتھ لینڈ کا حصہ بنا دیا گیا۔
یہ ایک غیر معمولی تبدیلی تھی۔ عام طور پر سڑکیں جنگلی علاقوں کو کاٹتی ہیں؛ یہاں ایک سڑک غائب ہو گئی۔
اس بحالی نے ڈیولز پنچ باؤل اور ہنڈہیڈ کامن کو دوبارہ جوڑنے میں مدد دی۔ جنگلی حیات کے لیے نقل و حرکت آسان ہوئی اور نایاب ہیتھ لینڈ اقسام کے لیے ماحول بہتر ہوا۔ پرانی سڑک کا راستہ اب ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد نازک قدرتی مساکن کو بحال کرنا اور ساتھ ہی لوگوں کو اس علاقے سے لطف اندوز ہونے کا موقع دینا ہے۔
یہ تبدیلی خاص طور پر ان پرندوں کے لیے اہم ہے جو کھلے ہیتھ لینڈ اور جنگلاتی کناروں پر انحصار کرتے ہیں۔ ووڈلارک اور نائٹ جار جیسے زمین پر گھونسلہ بنانے والے پرندے اس وقت فائدہ اٹھاتے ہیں جب ٹوٹے ہوئے مساکن دوبارہ جڑ جائیں۔ رینگنے والے جانور، کیڑے اور چھوٹے جانور بھی شور اور ٹریفک کے خطرے میں کمی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
یہ تبدیلی صرف جنگلی حیات تک محدود نہیں۔ اب یہاں آنے والے لوگ ڈیولز پنچ باؤل کو ایک بالکل مختلف انداز میں محسوس کرتے ہیں۔ جہاں پہلے گاڑیوں کا شور غالب تھا، وہاں اب ہوا، پرندوں اور کھلی زمین کی خاموشی سنائی دیتی ہے۔ نیشنل ٹرسٹ نے پرانی اے تھری کے کچھ حصے پر ہر موسم کے لیے قابلِ استعمال راستہ بھی بنایا ہے، تاکہ پیدل چلنے والے، وہیل چیئر استعمال کرنے والے افراد اور بچوں کی گاڑیوں کے ساتھ آنے والے خاندان بھی اس بحال شدہ منظرنامے تک رسائی حاصل کر سکیں۔
ہنڈہیڈ کی مثال قدرتی بحالی کا ایک مضبوط نمونہ بن چکی ہے۔ یہ دکھاتی ہے کہ ری وائلڈنگ ہمیشہ زمین کو مکمل طور پر چھوڑ دینے یا بڑے جانور واپس لانے کا نام نہیں۔ کبھی کبھی یہ صرف ایک رکاوٹ ہٹانے سے شروع ہوتی ہے — ایک سڑک، ایک باڑ یا کوئی انسانی رکاوٹ — تاکہ فطرت دوبارہ سانس لے سکے۔
البتہ کام ابھی ختم نہیں ہوا۔ ہیتھ لینڈ کو مسلسل دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے، خاص طور پر موسمیاتی دباؤ، غیر مقامی پودوں اور بڑھتے ہوئے سیاحتی دباؤ کے دور میں۔ پھر بھی ہنڈہیڈ کی تبدیلی تحفظِ ماحول کی دنیا میں ایک خوش آئند مثال ہے۔
ایک سڑک جو کبھی زمین کو تقسیم کرتی تھی، اب تقریباً منظر سے غائب ہو چکی ہے۔ اس کی جگہ ایک زخمی قدرتی علاقہ آہستہ آہستہ دوبارہ زندہ ہو رہا ہے۔
