MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
کاروبار اور تجارت

سندھ نے انفراسٹرکچر سیس کی مد میں 1.5 کھرب روپے جمع کیے، مگر صنعتی سڑکیں اب بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار

Last updated: مئی 31, 2026 9:59 شام
Syeda Musfira
Share
سندھ نے انفراسٹرکچر سیس کی مد میں 1.5 کھرب روپے جمع کیے، مگر صنعتی سڑکیں اب بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار
سندھ نے انفراسٹرکچر سیس کی مد میں 1.5 کھرب روپے جمع کیے، مگر صنعتی سڑکیں اب بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار
SHARE

 

سندھ میں کاروباری حلقوں نے گزشتہ پانچ سال کے دوران انفراسٹرکچر سیس کی مد میں 1.5 کھرب روپے سے زائد وصولیوں پر سوال اٹھا دیے ہیں، کیونکہ صوبے کے کئی صنعتی علاقوں میں سڑکیں بدستور ٹوٹی ہوئی ہیں، نکاسی آب کا نظام کمزور ہے، پانی کی فراہمی غیر یقینی ہے اور ٹریٹمنٹ سہولیات بھی ناکافی ہیں۔

یہ معاملہ ایف پی سی سی آئی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن عدیل صدیقی نے اٹھایا۔ ان کا کہنا ہے کہ انفراسٹرکچر سیس کا مقصد صوبے میں صنعتی اور تجارتی انفراسٹرکچر کی بہتری ہونا چاہیے تھا، مگر زمینی صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔

انفراسٹرکچر سیس دراصل سندھ میں سمندر یا فضائی راستے سے آنے والی درآمدی اشیا پر وصول کیا جاتا ہے۔ سندھ ایکسائز ڈپارٹمنٹ کے مطابق یہ سیس consignment کے وزن کے حساب سے customs value کا تقریباً 1.80 فیصد سے 1.85 فیصد تک لیا جاتا رہا ہے۔ درآمد کنندگان کے لیے یہ ایک معمولی چارج نہیں، بلکہ وقت کے ساتھ صوبائی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔

صنعتی نمائندوں کا مؤقف ہے کہ اتنی بڑی رقم وصول ہونے کے باوجود اس کا فائدہ صنعتی علاقوں میں نظر نہیں آتا۔ خاص طور پر حیدرآباد اور کوٹری کے صنعتی زونز کا ذکر کیا جا رہا ہے، جہاں صنعتکار خراب سڑکوں، کمزور سیوریج، پانی کی کمی اور waste treatment facilities کی عدم دستیابی یا غیر فعالیت کی شکایت کرتے ہیں۔

حیدرآباد SITE کی حالت اس بحث کو مزید نمایاں کرتی ہے۔ یہ صنعتی علاقہ 1952 میں قائم ہوا تھا اور تقریباً 1,264 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔ یہاں لگ بھگ 665 صنعتی یونٹس موجود ہیں، جن میں سے تقریباً 450 فعال بتائے جاتے ہیں۔ اتنے پرانے اور اہم صنعتی علاقے کے باوجود بنیادی سہولیات کا فقدان کاروباری حلقوں کے لیے باعث تشویش ہے۔

کاروباری برادری کا بنیادی سوال بہت سیدھا ہے: اگر صوبے نے انفراسٹرکچر کے نام پر 1.5 کھرب روپے سے زائد جمع کیے ہیں، تو پھر صنعتی علاقوں کی سڑکیں اب تک خراب کیوں ہیں؟

عدیل صدیقی نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انفراسٹرکچر سیس کی وصولی اور استعمال کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔ ان کے مطابق یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ رقم کن منصوبوں پر خرچ ہوئی، کن علاقوں کو فائدہ پہنچا، اور صنعتی زونز کو ان کا جائز حصہ ملا یا نہیں۔

یہ مسئلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صنعت پہلے ہی مہنگی بجلی، ٹیکسوں کے دباؤ، بلند شرح سود، کمزور طلب اور پیداواری لاگت میں اضافے سے پریشان ہے۔ خراب انفراسٹرکچر صنعتکاروں کے لیے مزید اخراجات پیدا کرتا ہے۔ ٹوٹی سڑکوں سے مال برداری متاثر ہوتی ہے، گاڑیوں کی مرمت کے اخراجات بڑھتے ہیں، پانی اور نکاسی آب کے مسائل پیداوار کو متاثر کرتے ہیں، اور مجموعی طور پر کاروبار کی مسابقت کمزور ہوتی ہے۔

رواں سال سندھ حکومت نے انفراسٹرکچر سیس قانون میں ترمیم بھی کی تھی، جس کے تحت سیس کی شرح کم کر کے 1 فیصد سے کم کی گئی اور برآمدات پر اسے ختم کیا گیا۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ سابقہ ڈھانچے سے صوبے کو خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو رہا تھا۔ تاہم ماضی میں جمع ہونے والی بڑی رقم کے استعمال کا سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے۔

کاروباری حلقوں کا مطالبہ صرف سڑکوں کی مرمت تک محدود نہیں۔ وہ اس رقم کا آڈٹ، شفاف تفصیلات اور منصوبوں کی واضح فہرست چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق جب صنعت سے انفراسٹرکچر کے نام پر رقم لی جاتی ہے، تو اس کا اثر سڑکوں، نکاسی آب، پانی کی لائنوں، صنعتی سہولیات اور treatment plants کی صورت میں نظر آنا چاہیے۔

مجموعی طور پر یہ معاملہ سندھ کے صنعتی نظام میں شفافیت اور گورننس کا بڑا سوال بن گیا ہے۔ اگر انفراسٹرکچر سیس واقعی ترقیاتی مقصد کے لیے ہے، تو اس کا فائدہ صنعتی علاقوں تک پہنچنا چاہیے۔ ورنہ کاروباری حلقوں کے لیے یہ ایک اور اضافی لاگت بن کر رہ جائے گا، جو پہلے ہی دباؤ کا شکار صنعت کو مزید کمزور کر سکتی ہے۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article ایف بی آر مئی کا ہدف 28 ارب روپے سے حاصل نہ کر سکا ایف بی آر مئی کا ہدف 28 ارب روپے سے حاصل نہ کر سکا
Next Article کوہلی کا بیان: ‘یہ ایک کلینیکل پرفارمنس تھی’
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
امریکہ کے رات کے آسمان پر پراسرار ’فائر بال‘ کا نظارہ، شہری ششدر
امریکہ کے رات کے آسمان پر پراسرار ’فائر بال‘ کا نظارہ، شہری ششدر
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
جون 17, 2026
کراچی میں گرمی اور حبس کا راج، شہر کے کچھ حصوں میں ہلکی بارش کا امکان
کراچی میں گرمی اور حبس کا راج، شہر کے کچھ حصوں میں ہلکی بارش کا امکان
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
جون 17, 2026
اسلام آباد ماڈل جیل کے لیے 2.1 ارب اور پاسپورٹ چھپائی کے واجبات کی ادائیگی کے لیے 5 ارب روپے کی گرانٹ منظور
اسلام آباد ماڈل جیل کے لیے 2.1 ارب اور پاسپورٹ چھپائی کے واجبات کی ادائیگی کے لیے 5 ارب روپے کی گرانٹ منظور
کاروبار اور تجارت
جون 17, 2026
مائیکروسافٹ نے نئے سرفیس پرو اور سرفیس لیپ ٹاپ لانچ کر دیے؛ اسنیپ ڈریگن X2 پروسیسر اور ریکارڈ بیٹری لائف کا اضافہ
مائیکروسافٹ نے نئے سرفیس پرو اور سرفیس لیپ ٹاپ لانچ کر دیے؛ اسنیپ ڈریگن X2 پروسیسر اور ریکارڈ بیٹری لائف کا اضافہ
Technology کاروبار اور تجارت
جون 17, 2026
ملائیشیا میں بڑی سہولت؛ یکم جولائی سے تمام اے ٹی ایم (ATM) سے رقم نکلوانا بالکل مفت کرنے کا اعلان
ملائیشیا میں بڑی سہولت؛ یکم جولائی سے تمام اے ٹی ایم (ATM) سے رقم نکلوانا بالکل مفت کرنے کا اعلان
کاروبار اور تجارت
جون 17, 2026
شاہی جوڑے کے مالیاتی بحران کی افواہیں؛ ہیری اور میگن کے ترجمان نے دیوالیہ پن کے دعووں کو جھوٹا قرار دے دیا
شاہی جوڑے کے مالیاتی بحران کی افواہیں؛ ہیری اور میگن کے ترجمان نے دیوالیہ پن کے دعووں کو جھوٹا قرار دے دیا
انٹرٹینمنٹ
جون 17, 2026

You Might Also Like

ہائبرڈ گاڑیوں پر جی ایس ٹی سے متعلق ابہام، مارکیٹ متاثر
کاروبار اور تجارت

ہائبرڈ گاڑیوں پر جی ایس ٹی سے متعلق ابہام، مارکیٹ متاثر

By Mabruka Khan
نوجوانوں کے روزگار کے لیے مفت اسکلز ٹریننگ پروگرام کا آغاز
pakistanکاروبار اور تجارت

نوجوانوں کے روزگار کے لیے مفت اسکلز ٹریننگ پروگرام کا آغاز

By Mabruka Khan
کاروبار اور تجارت

پٹرولیم مصنوعات مہنگی، ایک ہفتے میں مہنگائی میں تیز اضافہ ریکار

By Salman Khan
جاپان کے بعد نیپال نے بھی بھارتی آموں پر پابندی عائد کر دی
کاروبار اور تجارت

جاپان کے بعد نیپال نے بھی بھارتی آموں پر پابندی عائد کر دی

By Mabruka Khan
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?