اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے ان رپورٹس کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ عمران خان کی جیل میں کسی سابق آرمی چیف سے ملاقات ہوئی ہے۔ علیمہ خان نے ان اطلاعات کو “بالکل جھوٹا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی خبروں کی کوئی حقیقت نہیں۔
یہ تردید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عمران خان کی جیل ملاقاتوں، صحت، سیاسی پیغامات اور ممکنہ پسِ پردہ رابطوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں ایک بار پھر زور پکڑ رہی ہیں۔ عمران خان اگست 2023 سے قید ہیں، جبکہ پی ٹی آئی مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ پارٹی قیادت اور خاندان کو ان تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں گردش کرنے والے دعوے کے مطابق عمران خان نے ایک سابق آرمی چیف سے ملاقات کی۔ تاہم علیمہ خان نے اس بات کو مکمل طور پر رد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی خبریں بے بنیاد ہیں اور انہیں سیاسی ابہام پیدا کرنے کے لیے پھیلایا جا رہا ہے۔
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ عمران خان اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ممکنہ رابطوں سے متعلق کوئی بھی خبر فوری طور پر بڑے سیاسی معنی اختیار کر لیتی ہے۔ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتِ حال میں ایسی افواہیں مذاکرات، دباؤ یا کسی ممکنہ سیاسی “ڈیل” کے تاثر کو جنم دیتی ہیں۔
حالیہ دنوں میں علیمہ خان سے متعلق ایک اور گمراہ کن ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی، جس میں ان سے منسوب متنازع بیانات دکھائے گئے۔ بعد ازاں مختلف فیکٹ چیک رپورٹس میں واضح کیا گیا کہ وہ ویڈیو مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائی گئی جعلی/ڈیپ فیک ویڈیو تھی، اور اصل انٹرویو میں وہ باتیں شامل نہیں تھیں جو سوشل میڈیا پر پھیلائی گئیں۔
اس پس منظر میں علیمہ خان کی تازہ تردید کو پی ٹی آئی حلقے ایک اور مبینہ misinformation مہم کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عمران خان سے متعلق غیر مصدقہ خبریں پھیلا کر سیاسی ماحول کو مزید الجھایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، پاکستان کی عسکری قیادت بارہا یہ کہہ چکی ہے کہ اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر منظم مہمات قابلِ قبول نہیں۔ حالیہ مہینوں میں فوج اور پی ٹی آئی کے درمیان بیانات کی جنگ مزید شدت اختیار کر چکی ہے، خاص طور پر عمران خان کے بیانات اور ان کی سوشل میڈیا ٹیم کی سرگرمیوں کے بعد۔
فی الحال ایسی کوئی مصدقہ اطلاع یا سرکاری تصدیق موجود نہیں کہ عمران خان کی کسی سابق آرمی چیف سے جیل میں ملاقات ہوئی ہو۔ علیمہ خان کی واضح تردید کے بعد یہ دعویٰ فی الحال غیر مصدقہ اور متنازع ہی سمجھا جا رہا ہے۔
