لامین یامال کی فٹ بال کسی سترہ سالہ نوجوان جیسی نہیں ہے۔ یہ اس کھلاڑی کا کھیل ہے جو برسوں سے کیمپ نو کے دباؤ کو جھیل رہا ہو، نہ کہ اس لڑکے کا جو کچھ عرصہ قبل تک بارسلونا کے ڈریسنگ روم میں بیٹھ کر اپنے اسکول کا ہوم ورک مکمل کیا کرتا تھا۔
اس کہانی کا آغاز روکا فونڈا سے ہوتا ہے، جو ماتارو کا ایک محنت کش طبقے کا علاقہ ہے۔ یامال ہر گول کے بعد اپنے ہاتھوں سے "304” کا اشارہ بنا کر اسی علاقے سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ وہ بستی ہے جہاں سے عالمی شہرت یافتہ ستارے کم ہی نکلتے ہیں، لیکن یامال نے روایتی اسکاٹنگ اور تربیت کے ہر پیمانے کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ انہوں نے بارسلونا کی پہلی ٹیم میں شامل ہونے کے لیے کسی "انتظار” کے مرحلے کو نہیں مانا؛ بلکہ گزشتہ سیزن میں وہ ٹیم کی دھڑکن بن گئے۔
ان کی افادیت اب محض ‘امید افزا صلاحیت’ تک محدود نہیں رہی۔ لا لیگا اور چیمپئنز لیگ میں تجربہ کار دفاعی لائنوں کے خلاف ان کے گول اور اسسٹس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب ہر حریف ٹیم انہیں روکنے کے لیے الگ سے حکمت عملی بناتی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر ان کا تعارف مزید دھماکہ خیز رہا۔ یورو 2024 کے دوران اسپین کی فتح میں یامال سب سے کم عمر کھلاڑی اور اسکورر بن کر ابھرے۔ انہوں نے صرف رائٹ ونگ پر جگہ نہیں بنائی بلکہ کھیل کی رفتار کو خود کنٹرول کیا۔ برسوں کا تجربہ رکھنے والے محافظ ان کی تیز رفتاری اور دباؤ میں پرسکون فیصلے کرنے کی صلاحیت کے سامنے بے بس دکھائی دیے۔
ماہرین اکثر اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ اتنی کم عمری میں کام کا یہ بوجھ ان کی جسمانی صحت پر کیا اثر ڈالے گا۔ بارسلونا کے میڈیکل اسٹاف اور ہسپانوی قومی ٹیم کے کوچز کو اس حوالے سے ایک نازک توازن برقرار رکھنا پڑ رہا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ یامال ایک نسل میں پیدا ہونے والا کھلاڑی ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ فٹ بال کی تاریخ ان باصلاحیت نوجوانوں کی قبرستان ہے جنہیں وقت سے پہلے حد سے زیادہ استعمال کیا گیا۔
اس سب کے باوجود، یامال پر کوئی دباؤ دکھائی نہیں دیتا۔ وہ میڈیا کے سامنے اسی طرح پرسکون رہتے ہیں جیسے میدان میں گیند کو اپنے بائیں پاؤں پر سیٹ کرتے وقت۔ وہ شہرت کے پیچھے نہیں بھاگ رہے، وہ صرف گیند کے منتظر رہتے ہیں۔
اب نگاہیں 2026 کے ورلڈ کپ پر مرکوز ہیں۔ اگرچہ یہ ٹورنامنٹ ابھی کچھ دور ہے، لیکن توقعات کا بوجھ بڑھنا شروع ہو چکا ہے۔ روکا فونڈا کے اس لڑکے کے لیے سب سے بڑا چیلنج حریف کھلاڑی یا ٹیکٹیکل تبدیلیاں نہیں، بلکہ ایک پوری قوم کی امیدوں کا بوجھ اٹھانا ہوگا۔
اب تک تو ایسا لگتا ہے کہ ان کے کندھوں پر کوئی بوجھ ہے ہی نہیں۔
