سپریم کورٹ نے ایک اہم عدالتی نظیر قائم کرتے ہوئے فیصلہ دیا ہے کہ اعلیٰ عدالتیں ہائی کورٹس کو زیر التوا مقدمات جلد نمٹانے کے لیے ہدایات جاری کرنے میں انتہائی احتیاط برتیں۔ جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں واضح کیا کہ عدالتی درجہ بندی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سپریم کورٹ نچلی عدالتوں کے انتظامی امور یا کیس مینجمنٹ میں مداخلت کرے۔
یہ فیصلہ ان درخواستوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے جن میں سائلین معمول کے عدالتی راستوں کو چھوڑ کر براہِ راست سپریم کورٹ سے مقدمات جلد نمٹانے کے احکامات مانگتے ہیں۔ عدالت نے تسلیم کیا کہ انصاف میں تاخیر یقیناً ظلم ہے، تاہم سپریم کورٹ کو ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز کے انتظامی اختیارات میں متبادل کے طور پر کام نہیں کرنا چاہیے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ "مقدمات کو مخصوص مدت میں نمٹانے کی ہدایات جاری کرنا اصول نہیں بلکہ استثنا ہونا چاہیے۔” عدالت کا ماننا ہے کہ ایسی ہدایات سے ہائی کورٹس کے اندرونی روسٹر اور کام کا نظام درہم برہم ہوتا ہے، جس سے بعض مقدمات کو بلاوجہ ترجیح ملنے کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔
آئین کے تحت ہائی کورٹ کے چیف جسٹسز کو اپنے دائرہ اختیار میں مقدمات کی تقسیم اور کارکردگی کی نگرانی کا مکمل انتظامی اختیار حاصل ہے۔ سپریم کورٹ نے خبردار کیا کہ جب وہ خود ٹائم لائنز طے کرتی ہے تو اس سے ہائی کورٹس کے انتظامی اختیارات کمزور ہوتے ہیں اور عدالتی نظام میں "قطار توڑنے” کا کلچر پروان چڑھتا ہے۔
عدالت نے ایک اہم نکاح واضح کیا ہے کہ وہ تبھی مداخلت کرے گی جب ہائی کورٹ کی جانب سے قانون کی سنگین خلاف ورزی ہو یا مقدمات کو نمٹانے میں غیر معمولی اور بلاوجہ تاخیر ہو رہی ہو۔ تاہم، بینچ نے اس اختیار کے استعمال میں بھی "انتہائی احتیاط” برتنے کی تاکید کی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق، اس فیصلے کا مقصد سپریم کورٹ کے اپنے زیر التوا مقدمات کا بوجھ کم کرنا بھی ہے، کیونکہ اس طرح کی درخواستوں کی بھرمار نے عدالتِ عظمیٰ کا قیمتی وقت ضائع کیا ہے۔ اب یہ معاملہ واپس متعلقہ ہائی کورٹس کی انتظامیہ کے سپرد کر دیا گیا ہے تاکہ عدالتی نظم و نسق کو بہتر بنایا جا سکے۔
وکلاء اور سائلین کے لیے پیغام واضح ہے: اب تک کے معمول کے مطابق سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کے بجائے، مقدمات میں تاخیر کے معاملات کو متعلقہ ہائی کورٹ کی سطح پر ہی حل کرایا جائے۔
