رہائشیوں نے کچرے کو جلانے کے مجوزہ منصوبے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس سے عوامی صحت متاثر ہو سکتی ہے اور قریبی علاقوں میں فضائی آلودگی بڑھ سکتی ہے۔
مقامی اطلاعات کے مطابق اس منصوبے میں جمع شدہ ٹھوس کچرے کو تلف کرنے کے لیے اسے جلانے کا طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ تاہم آس پاس رہنے والے شہریوں کو خدشہ ہے کہ اس عمل سے زہریلا دھواں، مضر گیسیں اور باریک ذرات فضا میں شامل ہو سکتے ہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق کچرا جلانے سے خطرناک آلودگی پیدا ہو سکتی ہے جن میں ڈائی آکسینز اور کاربن مونو آکسائیڈ شامل ہیں، جو سانس کی بیماریوں، آنکھوں کی جلن اور طویل مدتی صحت کے مسائل کا سبب بن سکتے ہیں، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور پہلے سے بیمار افراد کے لیے۔
ماحولیاتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کچرا جلانا پائیدار حل نہیں ہے اور اس کے بجائے جدید ویسٹ مینجمنٹ، ری سائیکلنگ، کچرے کی علیحدگی اور بہتر لینڈ فل سسٹم کو اپنانا چاہیے۔
حکام کے مطابق یہ تجویز ابھی زیر غور ہے اور کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل ماحولیاتی اور صحت کے اثرات کا مکمل جائزہ لیا جائے گا۔ حکام نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ عوامی خدشات کو مدنظر رکھا جائے گا۔
یہ معاملہ اس وقت بحث کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں ایک طرف فوری کچرا کم کرنے کے اقدامات کی حمایت کی جا رہی ہے جبکہ دوسری طرف محفوظ اور ماحول دوست حل کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
