اسلام آباد — وفاقی حکومت نے لائیو اسٹاک (مال مویشی) کے شعبے میں ویلیو ایڈیشن (قدر میں اضافے) کے لیے ایک نیا ترقیاتی منصوبہ تیار کیا ہے، جس کے تحت اعلیٰ معیار کے اونٹنی کے دودھ کا پاؤڈر (کیمیل ملک پاؤڈر) تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق، "ہائی ویلیو کیمیل ملک پاؤڈر ڈیولپمنٹ پروجیکٹ” کا تخمینہ لاگت تقریباً 1 ارب روپے لگایا گیا ہے، جس میں سے آئندہ مالیاتی سال کے لیے 8 کروڑ 50 لاکھ (85 ملین) روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد اونٹنی کے دودھ کے پاؤڈر کو برآمد کر کے قیمتی زرِ مبادلہ کمانا اور ملک کے بارانی اور بنجر علاقوں کے مالداروں کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانا ہے۔
اس کے علاوہ، وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق (نیشنل فوڈ سیکیورٹی) کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 3.2 ارب روپے کی مجموعی رقم تجویز کی گئی ہے۔ اس فنڈ میں سے 92 کروڑ 50 لاکھ (925 ملین) روپے کی رقم 8 نئی ترقیاتی اسکیموں کے لیے مختص کی جائے گی، جبکہ 2.275 ارب روپے وزارت کے تحت پہلے سے جاری منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔
زراعت کے شعبے میں خودکفالت کے لیے آلو کے بیج کی مقامی سطح پر تیاری اور تقسیم کے مراکز قائم کرنے کا بھی ایک بڑا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس پروجیکٹ کی کل لاگت کا تخمینہ 4.59 ارب روپے ہے، اور پہلے مرحلے میں اس کے لیے 12 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے بیجوں کے معیار اور فصل کی پیداوار میں اضافہ ہوگا جس سے کسانوں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔
حکومت نے ملک بھر کے کسانوں کو منظم کرنے اور انہیں مارکیٹ تک رسائی دینے کے لیے "وزیراعظم نیشنل فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشن پروگرام” شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ 7.23 ارب روپے کی کل لاگت کے اس منصوبے کے ابتدائی فیز کے لیے اگلے مالی سال میں 10 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، ضلعی سطح پر متوازن علاقائی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے 7.5 ارب روپے کی لاگت سے "وزیراعظم نیشنل ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ پروگرام” کی بھی اصولی منظوری دے دی گئی ہے، جس کے لیے آئندہ بجٹ میں 10 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
