نیمار جونیئر کی ٹریننگ پچ پر واپسی ہو چکی ہے، لیکن الہلال انتظامیہ نے توقعات کو محتاط رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اکتوبر 2023 میں اے سی ایل (ACL) انجری کا شکار ہونے والے برازیلی فارورڈ نے ریاض میں کلب کی سہولیات پر انفرادی پریکٹس شروع کر دی ہے۔
ان کی بحالی کا عمل طبی ٹیم کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق جاری ہے۔ وہ دوڑ رہے ہیں، گیند کو کک کر رہے ہیں اور اپنے ورک لوڈ میں اضافہ کر رہے ہیں، لیکن کوچنگ اسٹاف نے اب تک ان کی مسابقتی واپسی کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی ہے۔ کلب حکام نیمار کی انجریز کی طویل تاریخ اور ان کے جارحانہ کھیل کے انداز سے بخوبی واقف ہیں، اسی لیے وہ سعودی پرو لیگ کے شدید دباؤ والے ماحول میں انہیں جلد بازی میں اتارنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔
یہ معاملہ کھلاڑی اور کلب دونوں کے لیے اہم ہے۔ الہلال نے نیمار کو سعودی عرب لانے کے لیے خطیر رقم خرچ کی، لیکن اب تک وہ چند میچوں سے زیادہ کلب کے لیے دستیاب نہیں رہ سکے۔ ان کی غیر موجودگی کے باوجود ٹیم لیگ میں اپنی برتری برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے، مگر نیمار کا برانڈ ویلیو کے اعتبار سے کلب کے لیے ہونا الگ اہمیت رکھتا ہے۔
نیمار کے لیے یہ صرف کلب فٹ بال تک محدود نہیں۔ 2026 کا ورلڈ کپ قریب ہے اور اگر انہیں برازیل کی قومی ٹیم کا مرکزی کھلاڑی بنے رہنا ہے، تو انہیں صرف بینچ پر بیٹھنے کے بجائے میدان میں باقاعدہ منٹس درکار ہوں گے۔
کلب کے طبی عملے کے ایک قریبی ذریعے کا کہنا ہے کہ "وہ سخت محنت کر رہے ہیں اور ان کا رویہ مثالی ہے، لیکن گھٹنے کی انجری ہی اصل فیصلہ کن عنصر ہے۔ بحالی کی رفتار کیلنڈر کے بجائے جسمانی ردعمل طے کرتا ہے۔”
سوشل میڈیا پر نیمار کے ٹریننگ کے دوران گول کرنے کی ویڈیوز سے مداحوں میں واپسی کی امیدیں جاگی ہیں، تاہم کلب کے اندرونی ذرائع حقیقت سے آگاہ ہیں۔ انتظامیہ فوری نتائج کے بجائے طویل مدتی فٹنس کو ترجیح دے رہی ہے۔
نیمار کی واپسی کا فیصلہ دنوں میں نہیں بلکہ ہفتوں میں ہوگا۔ جب تک وہ مکمل ٹریننگ سیشن کے دوران جسمانی تصادم کو بغیر کسی منفی ردعمل کے برداشت نہیں کر لیتے، تب تک میدان سے باہر رہنا ہی ان کے لیے واحد محفوظ راستہ ہے۔
