نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے صومالی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بحیرہ ہند میں سمندری ڈاکوؤں کی قید میں موجود پاکستانی ملاحوں کی بازیابی کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔ بحری جہاز کے اغوا کے بعد سے عملے کی حالتِ زار کے بارے میں معلومات نہ ملنے پر ان کے اہل خانہ سخت تشویش میں مبتلا ہیں۔
اسحاق ڈار نے صومالی سفارتی حکام سے ہونے والی ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران یہ معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی شہریوں کی بحفاظت واپسی اسلام آباد کی اولین ترجیح ہے۔ وزارت خارجہ موغادیشو کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، تاہم خطے کی پیچیدہ سکیورٹی صورتحال کے باعث بازیابی کا عمل توقع سے زیادہ سست روی کا شکار ہے۔
یہ ملاح صومالیہ کے ساحل کے قریب اُس راستے سے گزر رہے تھے جو گزشتہ ایک سال سے سمندری قزاقوں کی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ جدید ہتھیاروں اور منظم نیٹ ورک کے حامل یہ گروہ تجارتی جہازوں کو تاوان کے لیے ہدف بناتے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے قید کی طویل خاموشی کسی اذیت سے کم نہیں۔
وزارت خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم ملاحوں کی واپسی کے لیے ہر ممکن سفارتی راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ غیر ریاستی عناصر کسی قانون کے پابند نہیں، لیکن صومالی حکام پر بازیابی کے لیے دباؤ برقرار رکھا گیا ہے۔”
صومالی حکومت کو خود بھی اندرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ساحلی پٹی وسیع ہے اور بحری سکیورٹی کے لیے درکار وسائل کی کمی قزاقوں کے خلاف کارروائیوں میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اس سب کے باوجود، اسحاق ڈار کی مداخلت ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان اب خاموش سفارتکاری کے بجائے زیادہ جارحانہ حکمت عملی اپنانے پر غور کر رہا ہے۔
یہ واقعہ بحیرہ ہند میں تجارتی جہازوں کے عملے کو درپیش مستقل خطرات کی عکاسی کرتا ہے، جہاں تاوان کی ہوس میں ملوث مجرمانہ نیٹ ورک دوبارہ سر اٹھا رہے ہیں۔
منگل تک حکومت کو بازیابی کے لیے کوئی حتمی ٹائم لائن نہیں ملی ہے۔ فی الحال ملاح ڈاکوؤں کی تحویل میں ہیں، اور اسلام آباد کی امیدیں اعلیٰ سطحی سیاسی دباؤ پر ٹکی ہیں کہ شاید یہی وہ واحد راستہ ہو جس سے اس تعطل کو توڑا جا سکے۔
