دنیا بھر کی بڑی معیشتوں میں تیل کے اسٹریٹجک ذخائر کئی سال کی نچلی ترین سطح پر آ چکے ہیں، جس سے عالمی منڈی کا ہنگامی حالات سے نمٹنے کا سب سے بڑا دفاعی حصار ختم ہو گیا ہے۔ امریکہ اور یورپ نے کورونا کے بعد قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے اپنے ذخائر کا بے دریغ استعمال کیا، اب ان کے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں بچی۔
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، او ای سی ڈی ممالک میں تجارتی ذخائر اپنی پانچ سالہ اوسط سے بھی نیچے آ گئے ہیں۔ یہ صورتحال تاجروں اور پالیسی سازوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ وہ ذخائر جو کبھی کسی بھی بحران میں منڈی کو سہارا دیتے تھے، اب خالی ہو چکے ہیں اور منڈی میں اتار چڑھاؤ کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
تیل کی یہ قلت اب عالمی رہنماؤں کی ترجیحات بدل رہی ہے۔ چند ماہ پہلے تک تیل کی قیمتیں ایک معمولی اقتصادی مسئلہ سمجھی جاتی تھیں، لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ تیل کے ذخائر ختم ہونے کے بعد، مہنگائی کے نئے طوفان کا خطرہ سفارتکاری میں تیزی لانے پر مجبور کر رہا ہے۔
سینئر انرجی تجزیہ کار مارکس تھورن کا کہنا ہے کہ "اسٹریٹجک ذخائر اب قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا آلہ نہیں رہے، یہ ہنگامی ضرورت کے لیے آخری پناہ گاہ تھی جو تقریباً خالی ہو چکی ہے۔ اب منڈی کو مستحکم رکھنے کا واحد راستہ سفارتکاری ہے۔”
تیل کے ذخائر میں کمی اور امن معاہدے کی کوششوں کا تعلق اب براہِ راست ہو چکا ہے۔ حکومتی ذرائع تسلیم کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اگر طول پکڑتی ہے تو تیل کی سپلائی لائن متاثر ہو سکتی ہے، جس کا سامنا کرنے کے لیے موجودہ ذخائر ناکافی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ سطحی مذاکرات میں اب توانائی کی سکیورٹی کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔
گزشتہ سہ ماہی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خطے میں معمولی کشیدگی بھی خام تیل کے سودوں میں دس فیصد تک اضافہ کر دیتی ہے۔ منڈی میں ستر کی دہائی کے بعد پہلی بار ایسا "خوف کا پریمیم” دیکھا جا رہا ہے جس نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔
حکومتیں ایک مشکل مخمصے میں پھنس چکی ہیں۔ اگر وہ مہنگائی کے اس دور میں ذخائر دوبارہ بھرنے کی کوشش کرتی ہیں تو قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، اور اگر وہ ایسا نہیں کرتیں تو سپلائی لائن ٹوٹنے کی صورت میں معاشی تباہی کا خطرہ ہے۔
واشنگٹن اور برسلز کے لیے پیغام واضح ہے: توانائی میں خود کفالت کا خواب فی الحال تعبیر نہیں پا سکا، اور اب معاشی استحکام کا دارومدار سپلائی سائیڈ پر نہیں، بلکہ ایک ایسے جنگ بندی معاہدے پر ہے جو تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت کو یقینی بنا سکے۔ معاہدے کے بغیر گزرنے والا ہر دن منڈی کو ایک بڑے بحران کے قریب لے جا رہا ہے۔
