اسلام آباد — وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 27-2026 کے لیے پیش کردہ نئے بجٹ میں آٹوموبائل (گاڑیوں کی) صنعت کے لیے مراعات اور نئے ٹیکسوں کا ایک متوازن فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے۔ نئی آٹو پالیسی 31-2026 کے نفاذ سے قبل، اس بجٹ کا بنیادی مقصد مقامی مینوفیکچرنگ انڈسٹری کا تحفظ، ماحول دوست برقی گاڑیوں (EVs) کا فروغ اور مہنگی امپورٹڈ گاڑیوں سے ریونیو اکٹھا کرنا ہے۔
معاشی چیلنجز کے باوجود حکومت نے آٹو سیکٹر کو سہارا دینے کے لیے پالیسیوں کے تسلسل کو برقرار رکھا ہے۔ مختلف شعبوں کو مجموعی طور پر 285 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف دینے کے مہم کے تحت، گاڑیوں کے اسپیئر پارٹس اور سی کے ڈی (CKD) کٹس پر کسٹمز ڈیوٹی کو معتدل کیا گیا ہے۔ دوسری جانب، ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو بچانے اور لگژری گاڑیوں کی حوصلہ شکنی کے لیے 2,000cc سے 3,000cc اور اس سے زائد انجن کی صلاحیت رکھنے والی مقامی اور امپورٹڈ گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جس سے لگژری سیڈان اور ایس یو ویز (SUVs) مزید مہنگی ہو جائیں گی۔
نئی انرجی وہیکل (NEV) پالیسی 2025-2030 اور ‘پیو’ (PAVE) پروگرام کے تحت ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کو فروغ دینے کے لیے مقامی طور پر اسمبل ہونے والی برقی گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر رعایتی ڈیوٹی کی مدت 30 جون 2027 تک بڑھا دی گئی ہے۔ اس کے تحت مخصوص پارٹس پر 1 فیصد، غیر مقامی پارٹس پر 10 فیصد اور مقامی طور پر تیار ہونے والے پرزوں پر 25 فیصد کسٹمز ڈیوٹی کی رعایتی شرح برقرار رہے گی، جبکہ مقامی ای وی مینوفیکچرنگ پر سیلز ٹیکس کا ریلیف بھی جاری رہے گی۔
باہر سے امپورٹ کی جانے والی مکمل تیار گاڑیوں (CBU) کے مقابلے میں مقامی انڈسٹری کو ترجیح دینے کے لیے، حکومت نے 2 کروڑ (20 ملین) روپے یا اس سے زائد مالیت کی مہنگی امپورٹڈ ای وی گاڑیوں پر ایک نیا ٹیئرڈ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) عائد کر دیا ہے۔ اس اقدام سے لگژری برقی گاڑیاں تو مہنگی ہوں گی لیکن عام اور سستی ای وی گاڑیوں پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔ اس کے علاوہ سی پیک (CPEC) اور لاجسٹکس کے شعبے کو سپورٹ کرنے کے لیے الیکٹرک ٹرکوں پر 1 فیصد رعایتی سیلز ٹیکس برقرار رکھا گیا ہے۔
نئے بجٹ میں پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان عوام کے لیے الیکٹرک بائیکس (ای بائیکس) اور ای اسکوٹرز کو سب سے بڑا ریلیف دیا گیا ہے۔ ان کی مقامی تیاری کے لیے استعمال ہونے والے خام مال اور پرزوں پر رعایتی ڈیوٹیز کو برقرار رکھا گیا ہے۔ کسانوں، ملازمین اور طلبہ کے لیے مختلف صوبائی اسکیموں (جیسے پنجاب میں بلاسود بائیک اسکیم) کے تحت 80,000 روپے تک کی سبسڈیز فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ ملک میں موجود 3 کروڑ سے زائد موٹر سائیکلوں کو بتدریج الیکٹرک پر منتقل کیا جا سکے۔
مجموعی طور پر، بجٹ 26-27 پاکستان میں پائیدار اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے ایک واضح روڈ میپ فراہم کرتا ہے۔ گاڑیوں کی قیمتوں میں حتمی تبدیلیوں اور سلیبس کا تعین آئندہ دو ہفتوں کے اندر ایف بی آر (FBR) کی جانب سے جاری ہونے والے ایس آر اوز (SROs) اور فنانس بل کے حتمی متن کے بعد واضح ہو جائے گا۔
