سڈنی کے ساحلی علاقے ایلیزابیتھ بے میں پیر کی رات شارک کے حملے میں ایک خاتون شدید زخمی ہو گئیں۔ واقعہ رات آٹھ بجے کے قریب پیش آیا، جس نے مقامی رہائشیوں کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔
متاثرہ خاتون، جن کی عمر بیس سال کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے، ایک نجی جیٹی کے قریب تیراکی کر رہی تھیں جب شارک نے ان پر حملہ کیا۔ چیخ و پکار سن کر مقامی لوگ فوری طور پر ساحل پر پہنچے اور انہیں شدید زخمی حالت میں پانی سے باہر نکالا۔
ایمرجنسی سروسز نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر خاتون کو طبی امداد فراہم کی اور خون بہنے سے روکنے کے بعد انہیں سینٹ ونسنٹ ہسپتال منتقل کیا۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق خاتون کی حالت تشویشناک ہے اور ان کی سرجری کی گئی ہے۔ وہ اس وقت انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیرِ علاج ہیں۔
سڈنی کے مشہور سمندری ساحل جیسے بونڈی اور مینلی پر شارک سے بچاؤ کے لیے جال اور نگرانی کا نظام موجود ہے، لیکن ایلیزابیتھ بے جیسے اندرونی بندرگاہی علاقوں میں ایسی کوئی حفاظتی تنصیبات نہیں ہیں۔ ماہرینِ حیاتیات کا کہنا ہے کہ اس سیزن میں بندرگاہ کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ ہے، جس کی وجہ سے بڑی سمندری مخلوقات ساحل کے قریب آ رہی ہیں۔
واقعے کے ایک عینی شاہد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "یہاں اس طرح کا حملہ غیر معمولی ہے، لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ لوگ روزانہ یہاں تیرتے ہیں، کسی کو گمان بھی نہیں تھا کہ ایسا کچھ ہو سکتا ہے۔”
نیو ساؤتھ ویلز کے محکمہ پرائمری انڈسٹریز کے حکام نے جائے وقوعہ سے شواہد جمع کر لیے ہیں تاکہ حملہ کرنے والی شارک کی نسل کا تعین کیا جا سکے۔ انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ اگلی اطلاع تک ایلیزابیتھ بے کے پانی میں جانے سے گریز کریں۔
اس واقعے نے بندرگاہی علاقوں کی سکیورٹی اور شارک سے بچاؤ کی حکمت عملی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ فی الحال تمام تر توجہ متاثرہ خاتون کی زندگی بچانے پر مرکوز ہے۔
