پشاور — پاکستان پیپلز پارٹی کی خیبر پختونخوا قیادت نے پیر کو چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی، جس میں صوبائی حکومت کی گندم خریداری کی پالیسیوں اور بجٹ کے بحران پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
اسلام آباد میں ہونے والی اس بیٹھک میں صوبائی عہدیداران نے زرعی شعبے کی ابتر صورتحال کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ گزشتہ کئی ماہ سے مقامی کسان گندم کی گرتی ہوئی قیمتوں اور سرکاری سطح پر خریداری نہ ہونے کی وجہ سے دہری مشکلات کا شکار ہیں۔ کسانوں کے پاس گندم کا ذخیرہ موجود ہے لیکن مارکیٹ میں خریدار نہ ہونے کے باعث انہیں اپنی لاگت بھی پوری کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
ملاقات میں موجود پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے بتایا کہ "صوبائی انتظامیہ عملی طور پر غائب ہے۔ کسان اپنی فصلیں مڈل مین کو کوڑیوں کے دام بیچنے پر مجبور ہیں کیونکہ حکومت نے بروقت مداخلت نہیں کی۔”
گندم کے بحران کے علاوہ بحث کا مرکز صوبے کی مالیاتی حالت رہی۔ بجٹ کے اعداد و شمار پر تنقید کرتے ہوئے پی پی پی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ غیر محتاط مالیاتی فیصلوں نے نہ صرف ترقیاتی منصوبوں کو تعطل کا شکار کر دیا ہے بلکہ بنیادی خدمات کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے صوبائی محصولات کی وصولی اور اخراجات کے درمیان بڑھتے ہوئے خلیج کو تشویشناک قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے صوبائی ٹیم کو ہدایت کی کہ وہ ان پالیسیوں کے خلاف عوامی سطح پر آواز اٹھائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کو ان کسانوں کا پہلا ترجمان بننا ہوگا جو وفاقی اور صوبائی حکومت کی ناکام پالیسیوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔
پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر صوبائی محکمہ خوراک نے ہفتے کے اختتام تک گندم کی خریداری کے لیے نئی حکمت عملی کا اعلان نہ کیا، تو ضلعی سطح پر احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔
صوبائی حکومت کے لیے سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے لیے یہ صورتحال خیبر پختونخوا میں اپنی کھوئی ہوئی سیاسی زمین دوبارہ حاصل کرنے کا ایک موقع ہے۔ تاہم، یہ دباؤ پالیسیوں میں تبدیلی لائے گا یا صرف سیاسی بیان بازی تک محدود رہے گا، اس کا انحصار حکومت کے اگلے قدم پر ہے۔ فی الحال، خیبر پختونخوا کے کسان اس حل کے منتظر ہیں جو تاحال نظر نہیں آ رہا۔
