اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ معاہدے میں پاکستان کے کردار نے عالمی سطح پر ملک کی سفارتی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل چیلنج اس سفارتی کامیابی کو دیرپا معاشی اور تزویراتی فوائد میں تبدیل کرنا ہے۔
کئی ہفتوں پر محیط سفارتی کوششوں کے بعد طے پانے والا یہ معاہدہ مستقل امن معاہدہ نہیں بلکہ ایک عبوری فریم ورک ہے، جس کا مقصد کشیدگی میں کمی لانا اور اہم معاملات پر مذاکرات کے لیے 60 روزہ مدت فراہم کرنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی ثالثی محض سفارتی نیک نیتی کا اظہار نہیں تھی بلکہ اس کے پیچھے اہم قومی مفادات بھی کارفرما تھے۔ ایران اور امریکا کے درمیان طویل تنازع پاکستان کی سلامتی، توانائی کی فراہمی اور معاشی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا تھا۔
معاہدے میں کردار ادا کرنے کے بعد پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو علاقائی تنازعات کے حل میں مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس پیش رفت کا فوری فائدہ خطے میں استحکام کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے، جس سے پاکستان کی مغربی سرحد پر دباؤ کم ہوگا اور توانائی کی فراہمی یا تجارتی راستوں میں رکاوٹوں کے امکانات محدود ہوں گے۔
اگر ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی آتی ہے تو پاکستان کے لیے معاشی مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی علاقائی تجارت پاکستان کو ایک اہم ٹرانزٹ اور لاجسٹکس مرکز کے طور پر ابھرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔
اس ضمن میں گوادر بندرگاہ کو خاص اہمیت حاصل ہے، جو ایران اور عالمی منڈیوں کے درمیان تجارتی روابط کے لیے ایک متبادل راستہ بن سکتی ہے، بشرطیکہ پاکستان ضروری انفراسٹرکچر اور کاروباری سہولیات فراہم کرے۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ صرف جغرافیائی محل وقوع کافی نہیں ہوگا۔ پاکستان کو تجارتی پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد، ریگولیٹری اصلاحات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو یقینی بنانا ہوگا۔
حالیہ مہینوں میں ایرانی کاروباری وفود کی پاکستان آمد اور تجارتی دلچسپی اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے نئے امکانات موجود ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے سفارتی سطح پر ایک اہم موقع پیدا کیا ہے، لیکن اس موقع کو حقیقی معاشی فوائد میں تبدیل کرنا حکومت کی پالیسیوں اور عملی اقدامات پر منحصر ہوگا۔
ان کے مطابق اصل کامیابی صرف ثالثی میں نہیں بلکہ اس سفارتی کامیابی کو قومی معیشت اور علاقائی تجارت کے فروغ کے لیے استعمال کرنے میں ہے۔
