سکھر کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے مبینہ "جعلی پولیس مقابلے” میں ملوث نو پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ (ایف آئی آر) درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ حکم مقتول کے لواحقین کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر دیا گیا، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ پولیس نے اپنی کارروائی کو قانونی رنگ دینے کے لیے مقابلے کا ڈرامہ رچایا۔
عدالتی حکم میں متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر مقدمہ درج کریں۔ جج نے ابتدائی شہادتوں اور میڈیکل رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ پولیس اہلکاروں کے خلاف باقاعدہ فوجداری تحقیقات کے لیے کافی مواد موجود ہے۔
سکھر ڈویژن میں طویل عرصے سے یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ پولیس اہلکار مبینہ طور پر اپنے ریکارڈ کو بہتر دکھانے یا ذاتی انتقام لینے کے لیے "مقابلوں” کا سہارا لیتے ہیں۔ عدالتی حکم نے پولیس کے روایتی استثنیٰ اور طاقت کے بے جا استعمال کے خلاف ایک اہم سوال اٹھایا ہے۔
درخواست گزار کے مطابق، مقتول کو بغیر وارنٹ حراست میں لیا گیا اور دو روز تک نامعلوم مقام پر رکھنے کے بعد مبینہ پولیس مقابلے میں مار دیا گیا۔ وکیلِ صفائی نے عدالت کو بتایا کہ عینی شاہدین کے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ مقتول کو پولیس مقابلے سے کئی گھنٹے قبل ہی حراست میں لیا جا چکا تھا۔
سندھ پولیس کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم نامزد نو اہلکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے سرکاری اسلحہ جمع کرائیں اور تحقیقات مکمل ہونے تک علاقہ چھوڑنے سے گریز کریں۔
ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کیسز میں پولیس اہلکاروں کو اکثر محکمانہ پشت پناہی حاصل ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی مشکل ہوتی ہے۔ عدالت کی جانب سے ایف آئی آر درج کرنے کا حکم اس حفاظتی حصار کو توڑنے کی ایک کوشش ہے۔
مذکورہ اہلکار اب اس عدالتی فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس سے تحقیقات کے عمل میں تاخیر کا امکان ہے۔ تاہم، لواحقین کے لیے یہ عدالتی حکم اپنے پیارے کے قتل کے انصاف کے حصول کی جانب پہلا قدم ہے۔
