اسلام آباد / واشنگٹن: پاکستانی نیورو سائنسدان Aafia Siddiqui کے کیس میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس میں رپورٹس کے مطابق بعض امریکی اہلکاروں نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی گواہی کے کچھ حصے براہِ راست حقائق پر مبنی نہیں تھے۔
تفصیلات کے مطابق قانونی کارروائی کے دوران سامنے آنے والے بیانات میں کہا گیا کہ بعض گواہیاں ذاتی اندازوں، مفروضوں یا بالواسطہ معلومات پر مبنی تھیں، نہ کہ واقعات کے براہِ راست مشاہدے پر۔ عافیہ صدیقی کی قانونی ٹیم نے ان نکات کو کیس کے مختلف پہلوؤں پر نظرثانی کی کوششوں میں اہم قرار دیا ہے۔
عافیہ صدیقی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان انکشافات سے مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد کی ساکھ سے متعلق سوالات جنم لیتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر گواہی کی درستگی پر شکوک موجود ہیں تو اس معاملے کی مکمل جانچ ہونی چاہیے۔
قانونی ماہرین کے مطابق ایسے دعووں کی اہمیت اپنی جگہ موجود ہے، تاہم کیس پر ان کے عملی اثرات کا فیصلہ عدالتوں اور قانونی عمل کے ذریعے ہی ہوگا۔ پاکستان میں یہ مقدمہ طویل عرصے سے عوامی اور سیاسی توجہ کا مرکز رہا ہے۔
