کراچی، 20 جون: پاکستان میں جون 2026 کے دوران سیمنٹ کی قیمتیں مجموعی طور پر مستحکم رہیں، جہاں 50 کلوگرام سیمنٹ کی ایک بوری کی قیمت 1,500 سے 1,610 روپے کے درمیان ریکارڈ کی گئی، جبکہ توانائی کے بڑھتے اخراجات، ٹیکسوں اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باوجود مارکیٹ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق معروف اور اعلیٰ معیار کے سیمنٹ برانڈز کی قیمت 1,475 سے 1,505 روپے فی بوری رہی، جبکہ درمیانے درجے کے برانڈز 1,410 سے 1,435 روپے میں فروخت ہوتے رہے۔ کم قیمت والے برانڈز کی قیمت 1,380 سے 1,405 روپے فی بوری کے درمیان رہی۔
دوسری جانب سفید سیمنٹ بدستور مہنگا ترین زمرہ رہا، جہاں 40 کلوگرام کی ایک بوری 2,250 سے 2,350 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایندھن اور ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات سیمنٹ کی قیمتوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ رواں سال خطے میں ایران سے متعلق کشیدگی کے باعث ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے نقل و حمل کے اخراجات بڑھا دیے تھے، جس کا اثر سیمنٹ کی قیمتوں پر بھی پڑا۔
تاہم حالیہ ہفتوں میں ایندھن کی قیمتوں میں استحکام آنے سے سیمنٹ کی قیمتوں میں مزید اضافے کا دباؤ کم ہوا ہے۔
سیمنٹ صنعت کو توانائی کے اخراجات کے حوالے سے بھی مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ مقامی فیکٹریاں بڑی حد تک درآمدی کوئلے پر انحصار کرتی ہیں۔ عالمی منڈی میں کوئلے کی قیمتوں یا درآمدی ٹیکسوں میں اضافہ پیداواری لاگت بڑھا دیتا ہے۔
روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ بھی صنعت کے لیے ایک اہم چیلنج ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی کمزوری کے باعث درآمدی کوئلہ، مشینری کے پرزے اور دیگر خام مال مہنگا ہو جاتا ہے، جس کے اثرات بالآخر صارفین تک منتقل ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ سیمنٹ سیکٹر پر وفاقی اور صوبائی سطح پر مختلف ٹیکسز اور محصولات عائد ہیں، جن میں سیلز ٹیکس اور دیگر فیسیں شامل ہیں۔ صنعت سے وابستہ حلقے حکومت سے ٹیکسوں میں نرمی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں تاکہ تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔
اگرچہ پیداواری لاگت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم کمزور طلب نے کمپنیوں کو قیمتیں بڑھانے سے روکے رکھا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران سیمنٹ کی ترسیل میں 21 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی، جو تعمیراتی سرگرمیوں میں سست روی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایندھن، توانائی یا ٹیکس پالیسیوں میں کوئی بڑی تبدیلی نہ آئی تو آئندہ چند ہفتوں میں سیمنٹ کی قیمتیں مجموعی طور پر مستحکم رہنے کا امکان ہے
