ایڈنبرا: اسکاٹ لینڈ کے دارالحکومت ایڈنبرا میں جمعے کی شب پیش آنے والے متعدد پرتشدد واقعات میں پانچ افراد زخمی ہو گئے، جس کے بعد پولیس نے ان حملوں کی تحقیقات انسدادِ دہشت گردی کے زاویے سے شروع کر دی ہیں۔
پولیس اسکاٹ لینڈ کے مطابق 36 سالہ ایک سفید فام اسکاٹش شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ عوام کو مزید کسی خطرے کا سامنا نہیں ہے۔
پولیس نے بتایا کہ جمعہ کی رات مختلف علاقوں سے ہنگامی کالز موصول ہوئیں، جن میں حملوں، دھمکیوں، ڈکیتی اور توڑ پھوڑ کے واقعات کی اطلاع دی گئی۔ ان واقعات میں پانچ افراد زخمی ہوئے جن کی عمریں 22، 22، 24، 27 اور 39 سال ہیں۔
زخمیوں میں سے تین افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم پولیس کے مطابق کسی کی حالت تشویشناک نہیں اور تمام زخمی خطرے سے باہر ہیں۔
پولیس اسکاٹ لینڈ نے ایک بیان میں کہا کہ انسدادِ دہشت گردی یونٹ دیگر خصوصی اداروں اور مقامی پولیس کے تعاون سے واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں ایک نیم برہنہ شخص کو ایڈنبرا کی سڑکوں پر ایک بڑا ہتھیار اٹھائے گھومتے ہوئے دیکھا گیا۔ رپورٹس کے مطابق یہی شخص بعد میں پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوا، تاہم حکام نے ویڈیوز کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔
اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر John Swinney نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تشدد، نسل پرستی اور عدم برداشت کی اسکاٹ لینڈ میں کوئی جگہ نہیں۔
دوسری جانب Scottish Association of Mosques اور Muslim Engagement and Development (مینڈ) سمیت مسلم تنظیموں نے کہا ہے کہ متاثرین میں متعدد مسلمان شامل ہیں۔
مینڈ کے مطابق سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں مبینہ ملزم کو مسلمانوں کے خلاف نعرے لگاتے اور توہین آمیز زبان استعمال کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ واقعے کو اسلاموفوبیا اور انتہا پسند دائیں بازو کی دہشت گردی کے تناظر میں دیکھا جائے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی حملے ایڈنبرا کے علاقے سائیتھل میں ایک مسجد کے قریب ہوئے، جہاں دو افراد کو زخمی کیا گیا۔ بعد ازاں مزید تین افراد کو شہر کے مختلف مقامات پر نشانہ بنایا گیا۔
پولیس کے مطابق تمام حملوں کے بعد مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا، جو تاحال حراست میں ہے جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔
اسسٹنٹ چیف کانسٹیبل Catriona Paton نے واقعات کو "افسوسناک اور چونکا دینے والا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسکاٹ لینڈ میں نسل پرستی اور مذہبی بنیادوں پر نفرت کے لیے کوئی جگہ نہیں۔
یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب برطانیہ میں امیگریشن، نسلی تنوع اور سماجی ہم آہنگی سے متعلق مباحث کے باعث کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ حکام واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
