لندن — برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کے خلاف پارٹی کے اندر شدید بغاوت کے بعد ان کے استعفے کی خبریں گرم ہیں، اور ایک سینیئر وزیر کے مطابق وزیرِ اعظم اتوار کے روز اپنی حکومت کی "سیاسی حقیقتوں” پر گہرائی سے غور کر رہے ہیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق کیئر اسٹارمر پیر کے روز ہی اپنے استعفے اور نئے لیڈر کے انتخاب کا ٹائم ٹیبل جاری کر سکتے ہیں۔
اس شدید سیاسی بحران کا آغاز جمعہ کے روز ہونے والے ‘میکر فیلڈ’ کے ضمنی انتخاب سے ہوا، جہاں لیبر پارٹی کے مقبول رہنما اور گریٹر مانچسٹر کے میئر اینڈریو برنہم (Andy Burnham) نے تاریخی کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے حلقے میں لیبر پارٹی کی اکثریت کو تقریباً دوگنا کر دیا اور نائجل فراج کی سخت گیر دائیں بازو کی جماعت ‘ریفارم یو کے’ کو بدترین شکست دی۔ برطانوی قانون کے مطابق پارٹی سربراہ یا وزیرِ اعظم بننے کے لیے پارلیمنٹ (ایم پی) کا رکن ہونا لازمی ہے، اور اس جیت نے 56 سالہ برنہم کے لیے کیئر اسٹارمر کو چیلنج کرنے کا راستہ صاف کر دیا ہے۔ وہ پیر کے روز پارلیمنٹ کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے۔ چونکہ پارلیمنٹ میں لیبر پارٹی کو بھاری اکثریت حاصل ہے، اس لیے اسٹارمر کے ہٹنے کی صورت میں نیا پارٹی قائد خود بخود ملک کا اگلا وزیرِ اعظم بن جائے گا۔
برطانوی وزیرِ تجارت پیٹر کائل نے ‘اسکائی نیوز’ سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ انہوں نے جمعہ کو وزیرِ اعظم سے تلخ اور واضح گفتگو کی تھی اور اب اسٹارمر اپنے سیاسی مستقبل پر غور کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرِ خارجہ ایویٹ کوپر سمیت کئی اہم ترین وزراء نے کیئر اسٹارمر کو شرافت سے عہدہ چھوڑنے کا مشورہ دے دیا ہے۔
جولائی 2024 میں اقتدار سنبھالنے والے کیئر اسٹارمر کی حکومت گزشتہ کئی ماہ سے مختلف سکینڈلز، فیصلوں میں تبدیلیوں اور عوامی مقبولیت میں شدید کمی کے باعث بحران کا شکار تھی۔ مارچ میں جیمز ایپسٹین کے سابق معتمد پیٹر مینڈلسن کو امریکہ میں برطانیہ کا سفیر مقرر کرنے کے متنازع فیصلے پر بھی ان کی حکومت گرتے گرتے بچی تھی۔ اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: "کیئر اسٹارمر برطانوی وزیرِ اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ وہ دو اہم ترین موضوعات — امیگریشن اور انرجی — پر بری طرح ناکام ہوئے، میری نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں!”
اگر کیئر اسٹارمر چند دنوں میں اپنے عہدے سے الگ ہو جاتے ہیں، تو برطانیہ میں گزشتہ دس سالوں کے دوران یہ ساتواں وزیرِ اعظم ہوگا، جو ملک کی جدید تاریخ میں سیاسی عدم استحکام کی ایک غیر معمولی مثال ہے۔
