لندن / لاس اینجلس — شہزادہ ہیری کی اہلیہ میگن مارکل کے حوالے سے برطانوی میڈیا اور شاہی حلقوں میں یہ رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ وہ اپنے ممکنہ دورہِ برطانیہ سے قبل شدید ذہنی دباؤ اور بے چینی کا شکار ہیں، کیونکہ ان کی یہ خواہش پوری ہوتی نظر نہیں آ رہی کہ برطانوی میڈیا اور عوام ان کے ساتھ احترام اور نرمی کا برتاؤ کریں۔
برطانوی شاہی جوڑا آنے والے چند ہفتوں میں برمنگھم میں ہونے والے ‘انٹرنیشنل انویکٹس گیمز 2027’ کے ایک سالہ کاؤنٹ ڈاؤن کی تقریب میں شرکت کے لیے برطانیہ کا رخ کرنے والا ہے۔ تاہم، ذرائع کے مطابق میگن مارکل اس دورے کے لیے شدید ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ رپورٹس کے مطابق شہزادہ ہیری اپنی اہلیہ پر برطانیہ آنے کے لیے زور دے رہے ہیں اور ان کا پورا اصرار اس بات پر ہے کہ میگن کو وہاں مکمل احترام دیا جائے اور ان کی سیکیورٹی کو اولین ترجیح بنایا جائے۔ ہیری کا کہنا ہے کہ وہ میگن کو دوبارہ کسی ایسی صورتحال میں نہیں دیکھنا چاہتے جہاں ان پر تنقید کی جائے یا انہیں نشانہ بنایا جائے۔
دوسری جانب، شاہی مبصرین کا کہنا ہے کہ میگن مارکل کی یہ حسرت پوری ہونا مشکل دکھائی دیتی ہے کیونکہ برطانوی میڈیا کا ان کے بارے میں رویہ مزید سخت ہو چکا ہے اور وہاں کے عوامی سروے میں ان کی مقبولیت اب بھی انتہائی کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2022 میں ملکہ الزبتھ کی آخری رسومات کے بعد پہلی بار برطانیہ آنے والی میگن مارکل کو اس دورے کے دوران سیکیورٹی سے زیادہ برطانوی میڈیا کی منفی شہ سرخیوں کا خوف ستائے جا رہا ہے۔
تکنیکی ماہرین اس دورے کو شاہی جوڑے کے لیے ایک بڑا امتحان قرار دے رہے ہیں۔ اگر ان کا استقبال اچھے انداز میں ہوتا ہے اور وہ بادشاہ اور ملکہ کے ساتھ نظر آتے ہیں، تو شاید وہ مستقبل میں اکثر برطانیہ آنے کا فیصلہ کریں۔ انویکٹس گیمز میں شریک کھلاڑی تو ہیری اور میگن کا احترام کرتے ہیں، لیکن عام پبلک کا ایک بڑا حصہ اب بھی ان سے ناراض ہے۔ کچھ ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ میں مقبولیت کم ہونے کے بعد جوڑے کو اپنے شاہی سٹیٹس اور ٹائٹلز کو برقرار رکھنے کے لیے اس دورے کی اشد ضرورت ہے۔
اس دوران دونوں کے درمیان مستقبل کے منصوبوں پر تضادات کی خبریں بھی گرم ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ شہزادہ ہیری اپنے وطن کے لیے شدید اداس ہیں اور وہاں اکثر چکر لگانے کے حق میں ہیں، جبکہ میگن اس کے بالکل خلاف ہیں۔ کچھ بین الاقوامی رپورٹس میں تو یہاں تک دعویٰ کیا گیا ہے کہ برطانیہ واپسی کے معاملے پر دونوں کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو چکے ہیں اور بکنگھم پیلس نے کسی بھی ممکنہ علیحدگی سے نمٹنے کے لیے ہنگامی منصوبے بھی تیار کر رکھے ہیں۔ خود شہزادہ ہیری بھی سیکیورٹی کے مسائل کو اپنے خاندان کی واپسی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دے چکے ہیں
