لاہور: Punjab Assembly میں اپوزیشن جماعتوں نے پنجاب کے بجٹ کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بجٹ کی منظوری کے عمل میں بعض آئینی اور پارلیمانی تقاضے مکمل طور پر پورے نہیں کیے گئے۔
اپوزیشن اراکین کا کہنا ہے کہ مالیاتی قانون سازی کے عمل میں مکمل شفافیت اور پارلیمانی قواعد کی پابندی ضروری ہے، جبکہ کسی بھی ممکنہ بے ضابطگی سے قانونی اور آئینی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
اسمبلی کارروائی کے دوران اپوزیشن نے بجٹ دستاویزات کی پیشکش، بحث اور منظوری کے طریقہ کار پر اعتراضات اٹھائے اور حکومت سے مختلف مالیاتی تجاویز اور اخراجات کی تفصیلات طلب کیں۔
دوسری جانب صوبائی حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ بجٹ آئین اور قانون کے مطابق تیار اور منظور کیا گیا ہے۔ حکومتی نمائندوں کے مطابق تمام ضروری پارلیمانی تقاضے پورے کیے گئے اور بجٹ عوامی فلاح اور ترقی کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بجٹ سے متعلق قانونی اور طریقہ کار کے تنازعات سیاسی ماحول میں اکثر سامنے آتے ہیں، اور امکان ہے کہ یہ معاملہ آئندہ دنوں میں بھی زیرِ بحث رہے گا۔
