ماہواری کے انصاف کی جانب ایک مثبت قدم
حکومتِ پاکستان نے حال ہی میں ماہواری سے متعلق مصنوعات (Menstrual Products) پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کو صحت کے ماہرین، خواتین کے حقوق کے کارکنوں اور مختلف سماجی تنظیموں کی جانب سے بھرپور سراہا گیا ہے۔ کئی سالوں سے سماجی کارکن اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ سینیٹری پیڈز اور ماہواری کی صفائی سے متعلق دیگر اشیاء بنیادی صحت کی ضروریات ہیں، لہٰذا ان پر زیادہ ٹیکس عائد نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی انہیں لگژری اشیاء سمجھا جانا چاہیے۔
یہ اقدام ماہواری کی صحت کو بہتر بنانے اور ملک بھر کی لاکھوں خواتین اور لڑکیوں کے لیے ان مصنوعات کو نسبتاً سستا بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ان مصنوعات کی مجموعی قیمت میں کمی کے ذریعے حکومت امید کرتی ہے کہ صارفین پر مالی بوجھ کم ہوگا اور ماہواری کے دوران بہتر حفظانِ صحت کے طریقوں کو فروغ ملے گا۔
یہ فیصلہ کیوں اہم ہے؟
ماہواری ایک فطری حیاتیاتی عمل ہے جس سے ہر ماہ لاکھوں خواتین اور لڑکیاں گزرتی ہیں۔ تاہم محفوظ اور معیاری ماہواری کی مصنوعات تک رسائی آج بھی بہت سے گھرانوں کے لیے ایک مسئلہ ہے، خاص طور پر ان خاندانوں کے لیے جن کی آمدنی محدود ہے۔ مصنوعات کی زیادہ قیمتیں اکثر خاندانوں کو مشکل مالی فیصلے کرنے پر مجبور کرتی ہیں، خصوصاً معاشی غیر یقینی صورتحال اور مہنگائی کے دور میں۔
18 فیصد ٹیکس کا خاتمہ ایک مضبوط پیغام دیتا ہے کہ ماہواری کی صحت کو عوامی صحت کی ترجیحات میں شامل کیا جانا چاہیے۔ یہ اقدام دنیا بھر میں جاری اس تحریک کی بھی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد نام نہاد "پیریڈ ٹیکس” کا خاتمہ اور ہر ضرورت مند فرد کے لیے ماہواری کی مصنوعات تک آسان رسائی فراہم کرنا ہے۔
پاکستان میں پیریڈ پاورٹی کی حقیقت
اگرچہ ٹیکس میں کمی بلاشبہ ایک خوش آئند خبر ہے، لیکن یہ پیریڈ پاورٹی (Period Poverty) کے مسئلے کا مکمل حل نہیں ہے۔ پاکستان کے بہت سے غریب خاندان آج بھی بڑھتی ہوئی مہنگائی، کم اجرتوں اور صحت سے متعلق مصنوعات تک محدود رسائی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ قیمتوں میں کمی کے باوجود، سینیٹری پیڈز کئی ایسے گھرانوں کی پہنچ سے باہر رہ سکتے ہیں جو پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار ہیں۔
نتیجتاً بعض خواتین اور لڑکیاں اب بھی پرانے کپڑوں، ٹشو پیپر یا دیگر غیر محفوظ متبادل اشیاء کا استعمال کرتی ہیں۔ ایسے متبادل انفیکشن کے خطرات میں اضافہ کر سکتے ہیں اور صحت کے مزید مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ یہ خواتین کی عزتِ نفس، آرام اور اعتماد پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
تعلیم پر اثرات
پیریڈ پاورٹی کے سب سے کم زیرِ بحث آنے والے اثرات میں سے ایک اس کا تعلیم پر پڑنے والا اثر ہے۔ بہت سی اسکول جانے والی لڑکیاں ماہواری کے دوران مناسب حفظانِ صحت کی مصنوعات یا صفائی کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے کلاسوں سے غیر حاضر رہتی ہیں۔ بار بار غیر حاضری ان کی تعلیمی کارکردگی، تعلیمی سرگرمیوں میں شرکت اور مستقبل کے مواقع پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
اگرچہ ماہواری کی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی بعض خاندانوں کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر لڑکی کو پورے مہینے کے دوران اعتماد اور سکون کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کے قابل بنانے کے لیے مزید اقدامات ضروری ہیں۔
یہ صرف ٹیکس کا مسئلہ نہیں
ماہواری کی صحت صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ یہ عوامی صحت، صنفی مساوات اور سماجی شمولیت کا بھی اہم معاملہ ہے۔ کئی دہائیوں سے ماہواری کو بہت سی کمیونٹیز میں ایک حساس موضوع سمجھا جاتا رہا ہے، جس کے باعث غلط معلومات، سماجی بدنامی اور اس حوالے سے محدود گفتگو دیکھنے میں آتی ہے۔
ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے صرف ٹیکس اصلاحات کافی نہیں ہیں۔ عوامی آگاہی مہمات، بہتر صحت کی تعلیم اور کمیونٹی کی شمولیت ایسے ماحول کی تشکیل کے لیے ضروری ہیں جہاں ماہواری کی صحت پر کھل کر بات کی جا سکے اور اس کی مناسب حمایت کی جا سکے۔
مزید کیا کیا جا سکتا ہے؟
ماہرین اور سماجی تنظیمیں پاکستان میں ماہواری کی مصنوعات تک رسائی بہتر بنانے کے لیے چند اہم تجاویز پیش کرتی ہیں:
- کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے رعایتی نرخوں پر ماہواری کی مصنوعات فراہم کی جائیں۔
- سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں مفت سینیٹری پیڈز تقسیم کیے جائیں۔
- دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ان مصنوعات کی دستیابی بہتر بنائی جائے۔
- ماہواری کی صحت سے متعلق تعلیمی پروگراموں میں سرمایہ کاری کی جائے۔
- حکومتی اداروں، صحت کے شعبے اور غیر منافع بخش تنظیموں کے درمیان شراکت داری کو فروغ دیا جائے۔
ایسے اقدامات اس بات کو یقینی بنانے میں مدد دے سکتے ہیں کہ مالی رکاوٹیں خواتین اور لڑکیوں کو محفوظ اور باوقار طریقے سے ماہواری گزارنے سے نہ روک سکیں۔
آگے کا راستہ
ماہواری کی مصنوعات پر 18 فیصد ٹیکس ختم کرنے کا پاکستان کا فیصلہ ایک حوصلہ افزا پیش رفت اور ماہواری کے انصاف کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یہ اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ یہ مصنوعات عیش و عشرت نہیں بلکہ بنیادی ضروریات ہیں، اور یہ خواتین اور لڑکیوں کو درپیش ایک مالی رکاوٹ کو کم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ ملک کے بہت سے غریب ترین خاندان اب بھی ان ضروری مصنوعات کو خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ دیرپا اور مؤثر تبدیلی لانے کے لیے ٹیکس میں کمی کے ساتھ ساتھ ایسی وسیع پالیسیوں کی بھی ضرورت ہے جو غربت، رسائی، تعلیم اور آگاہی جیسے بنیادی مسائل کو حل کر سکیں۔
