MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
Health

پاکستان میں ماہواری سے متعلق مصنوعات پر 18 فیصد ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ، مگر قیمت اب بھی ایک چیلنج

Last updated: جون 23, 2026 6:48 شام
Tasneem Juzar
Share
ماہواری کے انصاف کی جانب ایک مثبت قدم
ماہواری کے انصاف کی جانب ایک مثبت قدم
SHARE

ماہواری کے انصاف کی جانب ایک مثبت قدم

حکومتِ پاکستان نے حال ہی میں ماہواری سے متعلق مصنوعات (Menstrual Products) پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کو صحت کے ماہرین، خواتین کے حقوق کے کارکنوں اور مختلف سماجی تنظیموں کی جانب سے بھرپور سراہا گیا ہے۔ کئی سالوں سے سماجی کارکن اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ سینیٹری پیڈز اور ماہواری کی صفائی سے متعلق دیگر اشیاء بنیادی صحت کی ضروریات ہیں، لہٰذا ان پر زیادہ ٹیکس عائد نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی انہیں لگژری اشیاء سمجھا جانا چاہیے۔

Contents
ماہواری کے انصاف کی جانب ایک مثبت قدمیہ فیصلہ کیوں اہم ہے؟پاکستان میں پیریڈ پاورٹی کی حقیقتتعلیم پر اثراتیہ صرف ٹیکس کا مسئلہ نہیںمزید کیا کیا جا سکتا ہے؟آگے کا راستہ

یہ اقدام ماہواری کی صحت کو بہتر بنانے اور ملک بھر کی لاکھوں خواتین اور لڑکیوں کے لیے ان مصنوعات کو نسبتاً سستا بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ان مصنوعات کی مجموعی قیمت میں کمی کے ذریعے حکومت امید کرتی ہے کہ صارفین پر مالی بوجھ کم ہوگا اور ماہواری کے دوران بہتر حفظانِ صحت کے طریقوں کو فروغ ملے گا۔

یہ فیصلہ کیوں اہم ہے؟

ماہواری ایک فطری حیاتیاتی عمل ہے جس سے ہر ماہ لاکھوں خواتین اور لڑکیاں گزرتی ہیں۔ تاہم محفوظ اور معیاری ماہواری کی مصنوعات تک رسائی آج بھی بہت سے گھرانوں کے لیے ایک مسئلہ ہے، خاص طور پر ان خاندانوں کے لیے جن کی آمدنی محدود ہے۔ مصنوعات کی زیادہ قیمتیں اکثر خاندانوں کو مشکل مالی فیصلے کرنے پر مجبور کرتی ہیں، خصوصاً معاشی غیر یقینی صورتحال اور مہنگائی کے دور میں۔

18 فیصد ٹیکس کا خاتمہ ایک مضبوط پیغام دیتا ہے کہ ماہواری کی صحت کو عوامی صحت کی ترجیحات میں شامل کیا جانا چاہیے۔ یہ اقدام دنیا بھر میں جاری اس تحریک کی بھی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد نام نہاد "پیریڈ ٹیکس” کا خاتمہ اور ہر ضرورت مند فرد کے لیے ماہواری کی مصنوعات تک آسان رسائی فراہم کرنا ہے۔

پاکستان میں پیریڈ پاورٹی کی حقیقت

اگرچہ ٹیکس میں کمی بلاشبہ ایک خوش آئند خبر ہے، لیکن یہ پیریڈ پاورٹی (Period Poverty) کے مسئلے کا مکمل حل نہیں ہے۔ پاکستان کے بہت سے غریب خاندان آج بھی بڑھتی ہوئی مہنگائی، کم اجرتوں اور صحت سے متعلق مصنوعات تک محدود رسائی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ قیمتوں میں کمی کے باوجود، سینیٹری پیڈز کئی ایسے گھرانوں کی پہنچ سے باہر رہ سکتے ہیں جو پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار ہیں۔

نتیجتاً بعض خواتین اور لڑکیاں اب بھی پرانے کپڑوں، ٹشو پیپر یا دیگر غیر محفوظ متبادل اشیاء کا استعمال کرتی ہیں۔ ایسے متبادل انفیکشن کے خطرات میں اضافہ کر سکتے ہیں اور صحت کے مزید مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ یہ خواتین کی عزتِ نفس، آرام اور اعتماد پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

تعلیم پر اثرات

پیریڈ پاورٹی کے سب سے کم زیرِ بحث آنے والے اثرات میں سے ایک اس کا تعلیم پر پڑنے والا اثر ہے۔ بہت سی اسکول جانے والی لڑکیاں ماہواری کے دوران مناسب حفظانِ صحت کی مصنوعات یا صفائی کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے کلاسوں سے غیر حاضر رہتی ہیں۔ بار بار غیر حاضری ان کی تعلیمی کارکردگی، تعلیمی سرگرمیوں میں شرکت اور مستقبل کے مواقع پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

اگرچہ ماہواری کی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی بعض خاندانوں کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر لڑکی کو پورے مہینے کے دوران اعتماد اور سکون کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کے قابل بنانے کے لیے مزید اقدامات ضروری ہیں۔

یہ صرف ٹیکس کا مسئلہ نہیں

ماہواری کی صحت صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ یہ عوامی صحت، صنفی مساوات اور سماجی شمولیت کا بھی اہم معاملہ ہے۔ کئی دہائیوں سے ماہواری کو بہت سی کمیونٹیز میں ایک حساس موضوع سمجھا جاتا رہا ہے، جس کے باعث غلط معلومات، سماجی بدنامی اور اس حوالے سے محدود گفتگو دیکھنے میں آتی ہے۔

ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے صرف ٹیکس اصلاحات کافی نہیں ہیں۔ عوامی آگاہی مہمات، بہتر صحت کی تعلیم اور کمیونٹی کی شمولیت ایسے ماحول کی تشکیل کے لیے ضروری ہیں جہاں ماہواری کی صحت پر کھل کر بات کی جا سکے اور اس کی مناسب حمایت کی جا سکے۔

مزید کیا کیا جا سکتا ہے؟

ماہرین اور سماجی تنظیمیں پاکستان میں ماہواری کی مصنوعات تک رسائی بہتر بنانے کے لیے چند اہم تجاویز پیش کرتی ہیں:

  • کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے رعایتی نرخوں پر ماہواری کی مصنوعات فراہم کی جائیں۔
  • سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں مفت سینیٹری پیڈز تقسیم کیے جائیں۔
  • دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ان مصنوعات کی دستیابی بہتر بنائی جائے۔
  • ماہواری کی صحت سے متعلق تعلیمی پروگراموں میں سرمایہ کاری کی جائے۔
  • حکومتی اداروں، صحت کے شعبے اور غیر منافع بخش تنظیموں کے درمیان شراکت داری کو فروغ دیا جائے۔

ایسے اقدامات اس بات کو یقینی بنانے میں مدد دے سکتے ہیں کہ مالی رکاوٹیں خواتین اور لڑکیوں کو محفوظ اور باوقار طریقے سے ماہواری گزارنے سے نہ روک سکیں۔

آگے کا راستہ

ماہواری کی مصنوعات پر 18 فیصد ٹیکس ختم کرنے کا پاکستان کا فیصلہ ایک حوصلہ افزا پیش رفت اور ماہواری کے انصاف کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یہ اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ یہ مصنوعات عیش و عشرت نہیں بلکہ بنیادی ضروریات ہیں، اور یہ خواتین اور لڑکیوں کو درپیش ایک مالی رکاوٹ کو کم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

تاہم حقیقت یہ ہے کہ ملک کے بہت سے غریب ترین خاندان اب بھی ان ضروری مصنوعات کو خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ دیرپا اور مؤثر تبدیلی لانے کے لیے ٹیکس میں کمی کے ساتھ ساتھ ایسی وسیع پالیسیوں کی بھی ضرورت ہے جو غربت، رسائی، تعلیم اور آگاہی جیسے بنیادی مسائل کو حل کر سکیں۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article اسحاق ڈار کا دعویٰ: لبنان پر اسرائیلی حملوں نے امریکا-ایران مذاکرات کو متاثر کیا اسحاق ڈار کا دعویٰ: لبنان پر اسرائیلی حملوں نے امریکا-ایران مذاکرات کو متاثر کیا
Next Article سرگودھا میں بچے کے قتل کا معاملہ: مرکزی ملزم کا اعترافِ جرم سرگودھا میں بچے کے قتل کا معاملہ: مرکزی ملزم کا اعترافِ جرم
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
صومالیہ میں قزاقوں کی فائرنگ سے جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں وطن لانے میں مشکلات
صومالیہ میں قزاقوں کی فائرنگ سے جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں وطن لانے میں مشکلات
Maritime تازہ ترین
اکتوبر 1, 2026
امریکی قونصل جنرل کا کراچی پورٹ کا دورہ، جدیدکاری اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو
امریکی قونصل جنرل کا کراچی پورٹ کا دورہ، جدیدکاری اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو
تازہ ترین کاروبار اور تجارت
اکتوبر 1, 2026
گورنر سندھ سے آسٹریا کے اعزازی قونصل جنرل کی ملاقات، تجارتی و اقتصادی تعاون پر گفتگو
گورنر سندھ سے آسٹریا کے اعزازی قونصل جنرل کی ملاقات، تجارتی و اقتصادی تعاون پر گفتگو
تازہ ترین کاروبار اور تجارت
اکتوبر 1, 2026
صومالیہ میں قید پاکستانیوں کا معاملہ، گورنر سندھ نہال ہاشمی کا اہم بیان
صومالیہ میں قید پاکستانیوں کا معاملہ، گورنر سندھ نہال ہاشمی کا اہم بیان
تازہ ترین سیاست
اکتوبر 1, 2026
پنجاب حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کامیاب، 15 اکتوبر تک مہلت
پنجاب حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کامیاب، 15 اکتوبر تک مہلت
تازہ ترین کاروبار اور تجارت
اکتوبر 1, 2026
پی ایم اے کا ملک بھر کے نجی میڈیکل سینٹرز میں ہڑتال کا اعلان، حکومت کو 11 اکتوبر کی ڈیڈ لائن
پی ایم اے کا ملک بھر کے نجی میڈیکل سینٹرز میں ہڑتال کا اعلان، حکومت کو 11 اکتوبر کی ڈیڈ لائن
Health تازہ ترین
اکتوبر 1, 2026

You Might Also Like

Health

نوزائیدہ بچوں میں ایم پاکس کے کیسز، ماہرین کا انتباہ

By Neha Ashraf
Health

‎2 بار سی ٹی اسکین سے بچوں میں خون کے کینسر کا خطرہ 80 فیصد تک بڑھ جاتا ہے: تحقیق

By Neha Ashraf
Health

سندھ میں ڈینگی کی صورتحال تشویشناک، 24 گھنٹے میں مزید 4 اموات، 1192 کیسز رپورٹ

By Neha Ashraf
Health

پشاور: پولیو کے نئے کیس کی تصدیق ہوگئی ‎

By Neha Ashraf
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?