سرگودھا — سرگودھا میں کمسن بچے کے اغوا اور قتل کے مرکزی ملزم نے تفتیش کے دوران اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔ پولیس حکام نے منگل کی صبح اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔ یہ واقعہ، جس کے بعد پورے ضلع میں شدید احتجاج دیکھنے میں آیا تھا، اب باقاعدہ چالان جمع کروانے کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
ملزم، جس کی شناخت قانونی کارروائی مکمل ہونے تک خفیہ رکھی گئی ہے، نے اعتراف کیا کہ اس نے بچے کو ورغلا کر اپنے ساتھ لے جانے کے بعد اسے قتل کیا۔ تفتیشی ٹیم کے مطابق، ملزم کے پاس ڈیجیٹل شواہد اور عینی شاہدین کے بیانات کے بعد انکار کی کوئی گنجائش نہیں بچی تھی۔
تین روز قبل جب بچہ لاپتہ ہوا تو علاقے میں سراسیمگی پھیل گئی۔ شہر کے مضافات میں ویران علاقے سے لاش ملنے کے بعد مشتعل شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر ٹریفک جام کر دی اور فوری انصاف کا مطالبہ کیا۔ عوامی دباؤ کے پیشِ نظر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے خود تفتیشی ٹیم کی نگرانی کی۔
پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ملزم نے وہ تفصیلات بتائی ہیں جو صرف وقوعہ کے وقت موجود شخص ہی جان سکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانزک رپورٹ اور ملزم کا بیان ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے ہیں۔
اعترافِ جرم کے باوجود کیس کا قانونی سفر پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ ماہرینِ قانون کے مطابق، دفاعی وکلاء ملزم کے اس بیان کو عدالت میں چیلنج کرنے کی کوشش کریں گے۔ دوسری جانب مقتول کے لواحقین، جو گہرے صدمے میں ہیں، نے کسی بھی قسم کی صلح یا معافی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے ملزم کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا ہے۔
صوبائی حکومت نے شفاف ٹرائل کا وعدہ کیا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے پراسیکیوشن کو ہدایت کی ہے کہ کیس کو خصوصی عدالت میں چلایا جائے۔
فی الحال ملزم جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہے۔ تفتیش کا رخ اب انسدادِ دہشت گردی یا سیشن عدالت میں چالان جمع کروانے کی طرف مڑ چکا ہے، جبکہ شہر میں فضا اب بھی کشیدہ ہے اور عوام کی نظریں عدالتی کارروائی پر مرکوز ہیں۔
