ایرانی صدر کی مسلم ممالک کے درمیان نئے علاقائی سلامتی نظام کے قیام کی تجویز
تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مسلم ممالک کے درمیان ایک نئے علاقائی سلامتی نظام کے قیام کی تجویز پیش کرتے ہوئے خطے کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی تعاون کو فروغ دیں اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کریں۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ مسلم ممالک کو ایک دوسرے کی جانب ’’دوستی کا ہاتھ‘‘ بڑھانا چاہیے اور اتحاد، مکالمے اور تعاون کے ذریعے خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینا چاہیے۔ ان کے مطابق علاقائی مسائل کا مؤثر حل مشترکہ کوششوں اور باہمی اعتماد سے ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک کے درمیان مضبوط تعاون نہ صرف سلامتی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ معاشی ترقی اور علاقائی خوشحالی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایرانی صدر نے تنازعات کے حل کے لیے سفارتی روابط اور مذاکرات کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
ایرانی حکام کے مطابق مجوزہ نظام میں سلامتی، تجارت، ترقی اور انسانی امداد جیسے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر توجہ دی جائے گی۔ ان کا مؤقف ہے کہ مسلم ممالک کے درمیان بہتر رابطہ کاری خطے کو درپیش خطرات سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی اور سفارتی تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق اس تجویز پر خطے کے ممالک میں وسیع بحث متوقع ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی نئے علاقائی سلامتی نظام کی کامیابی کے لیے تمام متعلقہ ممالک کی شمولیت اور مستقل سفارتی کوششیں ناگزیر ہوں گی۔ اس تجویز پر آئندہ مہینوں میں مزید بات چیت ہونے کا امکان ہے۔
