اسلام آباد: پاکستان کسٹمز نے چاول کی برآمدات کے لیے دی جانے والی سرکاری سبسڈی کے ممکنہ غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بعض برآمد کنندگان مبینہ طور پر غلط معلومات اور مشکوک دعووں کے ذریعے حکومتی مراعات سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
کسٹمز حکام کے مطابق ابتدائی جانچ کے دوران سبسڈی سے متعلق بعض درخواستوں میں بے ضابطگیوں کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس کے بعد نگرانی کے نظام کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر سبسڈی اسکیم کا غلط استعمال جاری رہا تو قومی خزانے کو بھاری مالی نقصان پہنچ سکتا ہے اور حقیقی برآمد کنندگان کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔
حکومت نے چاول کی برآمدات بڑھانے، زرمبادلہ کمانے اور عالمی منڈی میں پاکستانی چاول کی مسابقت بہتر بنانے کے لیے یہ مراعات متعارف کروائی تھیں۔ تاہم ان سہولیات کا ناجائز استعمال نہ صرف اسکیم کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے بلکہ مستحق کاروباری اداروں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
کسٹمز حکام نے بتایا کہ برآمدی دستاویزات، شپمنٹ ریکارڈ اور سبسڈی دعووں کی جانچ پڑتال مزید سخت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دھوکہ دہی یا جعل سازی میں ملوث افراد اور کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور انہیں مستقبل کی مراعاتی اسکیموں سے بھی محروم کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کسٹمز نے شفافیت، احتساب اور سرکاری فنڈز کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ صرف مستحق برآمد کنندگان کو ہی حکومتی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
