تہران، ایران — ایران کے سیاسی نظام کے حامی تیزی سے قوم پرستی کے ایک وسیع تر تصور کو اپناتے نظر آ رہے ہیں، جس کا مقصد معاشرے کے مختلف طبقات کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہے، جن میں وہ خواتین بھی شامل ہیں جو عوامی مقامات پر روایتی اسلامی حجاب یا اسکارف پہننے کا انتخاب نہیں کرتیں۔ یہ تبدیلی سیاسی، معاشی اور علاقائی چیلنجز کے دوران قومی اتحاد کو مضبوط بنانے کی ایک نئی کوشش کی عکاسی کرتی ہے۔
مبصرین کے مطابق حالیہ عرصے میں ایرانی حکومتی حلقوں سے وابستہ شخصیات کی جانب سے دیے جانے والے بیانات میں قومی شناخت، حب الوطنی اور ثقافتی ورثے پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔ صرف نظریاتی یا مذہبی اختلافات پر توجہ دینے کے بجائے بعض حکام اور تجزیہ کار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ تمام ایرانیوں کو ان کے طرزِ زندگی یا سماجی نظریات سے قطع نظر ایک قوم کے طور پر متحد کیا جائے۔
یہ تبدیلی کئی برسوں سے جاری سماجی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آئی ہے، جس میں لباس کے ضوابط، شہری آزادیوں اور ثقافتی آزادیوں سے متعلق مسائل شامل ہیں۔ خاص طور پر لازمی حجاب کے بارے میں جاری بحث ایرانی معاشرے کے سب سے نمایاں اور متنازع موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق قوم پرستی کے اس وسیع تر بیانیے کا مقصد جزوی طور پر بیرونی دباؤ اور اندرونی معاشی مشکلات کے دور میں سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ مشترکہ قومی مفادات کو اجاگر کرکے اس سوچ کے حامی معاشرتی تقسیم کو کم کرنے اور ریاستی اداروں کے لیے عوامی حمایت کو مضبوط بنانے کی امید رکھتے ہیں۔
حالیہ عوامی تقریبات اور قومی یادگاری پروگراموں میں نسبتاً زیادہ جامع انداز دیکھنے میں آیا ہے، جہاں مختلف سماجی اور ثقافتی پس منظر رکھنے والے افراد کو متحد ایرانی شناخت کے حصے کے طور پر پیش کیا گیا۔ بعض مبصرین اس رجحان کو نوجوان نسل اور ان شہریوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی حکمتِ عملی قرار دیتے ہیں جو روایتی سیاسی پیغام رسانی سے خود کو دور محسوس کرتے ہیں۔
تاہم اس تبدیلی کی اہمیت کے بارے میں آراء مختلف ہیں۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ قومی شناخت کی زیادہ جامع تشریح سماجی فاصلے کم کرنے اور قومی معاملات میں عوامی شرکت بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے۔ دوسری جانب ناقدین سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا بیانات میں آنے والی یہ تبدیلی دیرینہ سماجی مسائل کے حل کے لیے حقیقی پالیسی اصلاحات میں بھی تبدیل ہوگی یا نہیں۔
خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے حلقوں نے بھی اس حوالے سے ملا جلا ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ کچھ افراد اس زبان اور رویے کا خیرمقدم کرتے ہیں جو خواتین کو ان کے لباس کے انتخاب سے قطع نظر زیادہ قبولیت دیتا دکھائی دیتا ہے، جبکہ دیگر کا مؤقف ہے کہ حقیقی پیش رفت صرف علامتی بیانات سے نہیں بلکہ قانونی اور ادارہ جاتی اصلاحات سے ممکن ہوگی۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ قوم پرستی پر بڑھتا ہوا زور ضروری نہیں کہ ایران کے موجودہ سیاسی نظام سے دوری کی نشاندہی کرتا ہو۔ بلکہ یہ موجودہ نظام کی مقبولیت کو وسیع کرنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے، جس کے ذریعے مختلف سماجی طبقات کو ایک مشترکہ قومی بیانیے کے تحت شامل کیا جا رہا ہے۔
جبکہ ایران اندرونی اور بین الاقوامی سطح پر پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، قومی شناخت کے بارے میں جاری بحث ملک کی سیاسی فضا کا ایک اہم حصہ بنی رہے گی۔ یہ وسیع تر قوم پرستی مستقبل میں مستقل سماجی تبدیلی کا سبب بنتی ہے یا نہیں، یہ سوال اب بھی تجزیہ کاروں، پالیسی سازوں اور عوام کے درمیان بحث کا موضوع ہے۔
