باڑہ، ضلع خیبر — خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں سکیورٹی فورسز اور مبینہ دہشت گردوں کے درمیان شدید جھڑپوں کے باعث سینکڑوں مقامی باشندے اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ جاری کشیدگی اور تشدد نے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے، جبکہ متعدد خاندان محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق باڑہ کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد سرگرمیوں میں اضافے کی اطلاعات کے بعد سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں شروع کیں۔ مختلف مقامات پر شدید فائرنگ کے تبادلے کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس کے بعد حکام نے شہریوں کو متاثرہ علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت کی۔
عینی شاہدین کے مطابق خاندانوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ جلدی جلدی اپنا ضروری سامان سمیٹ کر گھروں سے نکلنے لگے۔ نقل مکانی کرنے والوں میں خواتین، بچے اور بزرگ شہری بھی شامل ہیں، جن میں سے بیشتر نے قریبی محفوظ علاقوں یا اپنے رشتہ داروں کے ہاں عارضی پناہ لے لی ہے۔
ایک متاثرہ رہائشی نے بتایا، "ہمارے پاس علاقہ چھوڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ پورا دن فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں آتی رہیں، جس کی وجہ سے ہمیں اپنی جانوں کا خطرہ محسوس ہونے لگا۔”
سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد دہشت گرد عناصر کا خاتمہ اور علاقے میں امن و امان کی بحالی ہے۔ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ شہریوں کے تحفظ اور روزمرہ زندگی میں کم سے کم خلل پیدا کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ تاہم آپریشن کی مدت کے بارے میں ابھی کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
علاقہ چھوڑنے پر مجبور خاندانوں کو متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔ بہت سے افراد خوراک، رہائش، طبی سہولیات اور اپنے بچوں کی تعلیم کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ مقامی فلاحی تنظیموں اور سماجی اداروں نے متاثرین کی ضروریات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے اور امداد فراہم کرنے کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔
باڑہ اور اس کے نواحی علاقوں میں ماضی میں بھی شدت پسند سرگرمیوں کے باعث بدامنی کے ادوار دیکھے جا چکے ہیں۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں سکیورٹی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے، تاہم وقفے وقفے سے پیش آنے والے ایسے واقعات علاقے میں امن و استحکام کے حوالے سے خدشات کو دوبارہ جنم دیتے ہیں۔
مقامی رہنماؤں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور بے گھر ہونے والے خاندانوں کو فوری امداد فراہم کی جائے۔ انہوں نے مستقبل میں ایسے حالات سے بچنے اور نقل مکانی کے واقعات کی روک تھام کے لیے طویل المدتی اقدامات پر بھی زور دیا ہے۔
فوجی کارروائیاں جاری رہنے کے باوجود مقامی آبادی پرامن حالات کی واپسی کی امید رکھتی ہے تاکہ وہ محفوظ طریقے سے اپنے گھروں کو لوٹ سکیں اور اپنی معمول کی زندگی دوبارہ شروع کر سکیں۔ حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سرکاری اعلانات پر عمل کریں اور ان علاقوں سے دور رہیں جہاں سکیورٹی آپریشن جاری ہیں۔
صورتحال تاحال تبدیل ہو رہی ہے اور علاقے میں دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے مزید پیش رفت متوقع ہے۔
